یوکرین نے روس کے مختلف علاقوں میں متعدد اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے ایک ہزار سے زائد ڈرون داغنے کا دعویٰ کیا ہے۔ روسی حکام کے مطابق ان میں سے سینکڑوں ڈرونز کا رخ دارالحکومت ماسکو کی جانب تھا۔ ماسکو کے میئر نے اس حملے کو جنگ شروع ہونے کے بعد روسی دارالحکومت پر ہونے والے سب سے بڑے ڈرون حملوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔ روسی حکام کے مطابق ماسکو کی جانب بڑھنے والے کم از کم 450 ڈرونز کو شہر تک پہنچنے سے پہلے ہی روک لیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے بڑی تعداد میں ڈرونز کو راستے میں ہی تباہ یا ناکارہ بنا دیا۔
حملے کے دوران ماسکو کے ایک آئل ریفائنری کمپلیکس اور ایک رہائشی عمارت کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ روسی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں مختلف مقامات پر نقصانات ہوئے، تاہم ڈرون حملوں سے متعلق تمام تفصیلات فوری طور پر واضح نہیں ہو سکیں۔ یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب روس میں پارلیمانی انتخابات کے آخری مرحلے کی ووٹنگ جاری تھی۔ ملک کے مختلف حصوں میں انتخابات کے دوران شہری اپنے ووٹ ڈال رہے تھے۔ ماسکو نے الزام عائد کیا کہ یوکرین نے ڈرون حملوں کے ذریعے ووٹنگ کے عمل میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔
روسی حکام نے تاہم کہا کہ حملوں کے باوجود ملک میں انتخابی عمل جاری رہا اور ووٹنگ مقررہ طریقے سے مکمل کی گئی۔روس نے ان علاقوں میں بھی ووٹنگ کرائی جنہیں ماسکو نے یوکرین کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد اپنے ساتھ شامل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یوکرین اور بیشتر عالمی برادری ان علاقوں کے روس میں انضمام کو تسلیم نہیں کرتے اور اسے غیر قانونی قرار دیتے ہیں۔
دوسری جانب یوکرین کی جانب سے روس پر کیے گئے اس بڑے ڈرون حملے کو جنگ کے دوران ماسکو پر بڑھتے ہوئے فضائی حملوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ ایک ہی وقت میں روس کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنانے کی اطلاعات نے روسی فضائی دفاع اور دارالحکومت کی سکیورٹی سے متعلق بھی سوالات پیدا کیے ہیں۔ حملے اور اس کے نقصانات سے متعلق روسی حکام کے بیانات کے علاوہ یوکرین کی جانب سے فوری طور پر تمام تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ جنگ کے دوران دونوں ممالک کی جانب سے حملوں اور نقصانات کے حوالے سے کیے جانے والے دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق ہر معاملے میں ممکن نہیں ہوتی۔






