Thursday, October 22, 2026 | 10 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • بہار کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع، 12 لاکھ افراد کو ڈیجیٹل تربیت دینے کا ہدف

بہار کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع، 12 لاکھ افراد کو ڈیجیٹل تربیت دینے کا ہدف

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 22 Oct 2026

بہار کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع، 12 لاکھ افراد کو ڈیجیٹل تربیت دینے کا ہدف
بہار: دورجدید میں صرف ڈگری حاصل کرنا ملازمت کے لیے کافی نہیں ہے، بلکہ امیدواروں کے پاس عملی اور تکنیکی مہارتوں کا ہونا بھی ضروری ہے۔ اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے بہار حکومت نوجوانوں کو ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لیے ’ڈیجیٹل متر‘ اسکیم پر کام کر رہی ہے۔ اس منصوبے کے تحت اگلے پانچ سالوں میں 12 لاکھ ڈیجیٹل متر تیار کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ مالی سال 2026-27 میں 2 لاکھ 67 ہزار افراد کو تربیت دینے کا منصوبہ ہے۔ اس اسکیم کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو کمپیوٹر اور جدید ٹیکنالوجی سے متعلق مہارتیں فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ اپنی قابلیت کے مطابق ملازمت حاصل کرسکیں یا اپنا ذاتی کاروبار اور پیشہ ورانہ کام شروع کرسکیں۔ حکومت کی اس پہل سے نوجوانوں کو روزگار کے لیے تیار کرنے اور ان کی عملی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے پر توجہ دی جائے گی۔
 
ڈیجیٹل متراسکیم کے تحت تربیت فراہم کرنے کے لیے سرکاری اور نجی، دونوں طرح کے تعلیمی اور تربیتی اداروں کو شامل کیا جائے گا۔ ان میں انجینئرنگ کالج، پولی ٹیکنک ادارے، ڈگری کالج، انڈسٹریل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹس (ITIs) اور ماڈل اسکول شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، ’کشل یووا پروگرام‘ (KYP) کے تحت کام کرنے والے 871 نجی مراکز کو بھی اس منصوبے سے جوڑنے کا ارادہ ہے۔ ہر آپریٹر ابتدائی مرحلے میں اپنا ایک مرکز فراہم کرے گا۔ اسکیم میں حصہ لینے والے نجی مراکز کو موجودہ KYP-1 اور KYP-2 کے ادائیگی کے نظام کے مطابق معاوضہ دیا جائے گا۔
 
اس اسکیم کے تحت نوجوانوں کو تین ماہ کی تربیت دی جائے گی، جس کا مجموعی دورانیہ 270 گھنٹے ہوگا۔ تربیتی پروگرام میں روزمرہ دفتری کاموں سے لے کر جدید مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال تک مختلف مہارتیں سکھائی جائیں گی۔ تربیت میں مائیکروسافٹ آفس کے اہم پروگراموں، یعنی ورڈ (Word)، ایکسل (Excel) اور پاور پوائنٹ (PowerPoint) کا استعمال شامل ہوگا۔ اس کے ساتھ امیدواروں کو گوگل ورک اسپیس (Google Workspace) کے ذریعے دفتری کام انجام دینے کی تربیت بھی دی جائے گی۔موجودہ دور میں کمپنیوں کے اندر اے آئی ٹولز کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ اسی ضرورت کو دیکھتے ہوئے اس پروگرام میں چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) اور کو پائلٹ (Copilot) جیسے ٹولز کے استعمال کی تربیت بھی شامل کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، انگریزی ٹائپنگ اور مواصلاتی مہارتوں پر بھی توجہ دی جائے گی، تاکہ نوجوان دفتری ماحول میں بہتر انداز سے کام کرسکیں۔
 
اسکیم میں حصہ لینے کے لیے امیدوار کا کم از کم دسویں جماعت پاس ہونا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ڈیجیٹل شعبے میں ڈیڑھ سال کے تجربے کی شرط بھی بتائی گئی ہے، تاہم بارہویں جماعت پاس امیدواروں کو اس شرط سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔ ایسے امیدواروں کو ترجیح دی جائے گی جنہوں نے اپنی اپار آئی ڈی (APAAR ID) کی بنیاد پر کریڈٹ اسکور حاصل کیا ہے۔ درخواست دینے سے پہلے امیدواروں کو اہلیت کی شرائط اور متعلقہ رہنما ہدایات کی تصدیق کرنی چاہیے۔
 
ڈیجیٹل متر کی تربیت مکمل کرنے کے بعد نوجوانوں کے لیے مختلف شعبوں میں کام کرنے کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔ ان میں ڈیجیٹل مارکیٹنگ، پنچایتوں اور بلاک دفاتر میں ڈیجیٹل اسسٹنٹ، نجی کمپنیوں میں کمپیوٹر آپریٹر اور آئی ٹی سے متعلق ملازمتیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، امیدوار نیٹ ورکنگ، ڈرون ٹیکنالوجی، لیب ٹیکنالوجی، ہوم نرسنگ، بیوٹی اینڈ ویلنیس، بیکری، بینکنگ اور مالیاتی خدمات جیسے شعبوں میں بھی مواقع تلاش کرسکتے ہیں۔ غذائی اشیا سے متعلق کمپنیوں میں کمپلائنس آفیسر اور دیگر ہنرمند کاموں کے امکانات بھی موجود ہیں۔ بہار حکومت کے اس منصوبے کا مقصد نوجوانوں کو ایسی مہارتیں فراہم کرنا ہے جن کی مدد سے وہ بدلتی ہوئی جاب مارکیٹ میں اپنی جگہ بنا سکیں۔ تاہم، تربیت مکمل کرنے کے بعد ملازمت حاصل کرنا متعلقہ شعبے کی ضروریات، امیدوار کی صلاحیت اور دستیاب آسامیوں پر منحصر ہوگا۔