Wednesday, October 28, 2026 | 16 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • کرناٹک قانون ساز کونسل انتخابات میں بی جے پی کی بڑی جیت، 4 میں سے 3 نشستوں پر قبضہ

کرناٹک قانون ساز کونسل انتخابات میں بی جے پی کی بڑی جیت، 4 میں سے 3 نشستوں پر قبضہ

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 28 Oct 2026

کرناٹک قانون ساز کونسل انتخابات میں بی جے پی کی بڑی جیت، 4 میں سے 3 نشستوں پر قبضہ
کرناٹک میں قانون ساز کونسل کے انتخابات میں بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعت جنتا دل (سیکولر) یعنی جے ڈی (ایس) نے بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ چار نشستوں کے لیے ہونے والے انتخابات میں بی جے پی نے تین نشستوں پر قبضہ کیا، جبکہ جے ڈی (ایس) نے ایک نشست جیتی۔ اس طرح قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) نے چاروں نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی۔ ریاست میں برسراقتدار کانگریس ان انتخابات میں ایک بھی نشست جیتنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ قانون ساز کونسل کی ان چار نشستوں کے لیے 23 اکتوبر کو ووٹنگ ہوئی تھی، جبکہ ووٹوں کی گنتی 28 اکتوبر 2026 کو مکمل ہوئی۔ ان نتائج کو کرناٹک میں بی جے پی اور جے ڈی (ایس) کے درمیان انتخابی تال میل کے لیے بھی اہم قرار دیا جارہا ہے۔
 
بی جے پی نے ساؤتھ ایسٹ گریجویٹس، ویسٹ گریجویٹس اور نارتھ ایسٹ ٹیچرز حلقوں میں کامیابی حاصل کی۔ نارتھ ایسٹ ٹیچرز حلقے میں بی جے پی کے موجودہ ایم ایل سی ششیل جی نموشی نے کانگریس امیدوار شرنپا مٹور کو شکست دی۔ نموشی کی اس حلقے میں یہ پانچویں کامیابی بتائی جارہی ہے۔ اس حلقے میں کلابورگی کا علاقہ بھی شامل ہے، جسے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کا مضبوط سیاسی گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ ساؤتھ ایسٹ گریجویٹس حلقے میں بی جے پی کے امیدوار کے ایم سریش نے کانگریس کے ششی ہلیکونٹے مٹ کو شکست دی۔ اسی طرح ویسٹ گریجویٹس حلقے میں بی جے پی کے ایس وی سنکانور نے کانگریس امیدوار موہن لمبیکائی کے خلاف کامیابی حاصل کی۔
 
بی جے پی کی اتحادی جماعت جے ڈی (ایس) نے بنگلورو ٹیچرز حلقے میں کامیابی حاصل کی۔ پارٹی کے امیدوار اے پی رنگناتھ نے کانگریس کے موجودہ ایم ایل سی پٹنا کو 908 ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔ پٹنا اس نشست سے دوبارہ انتخاب لڑ رہے تھے۔ جے ڈی (ایس) کی اس کامیابی کے ساتھ این ڈی اے نے قانون ساز کونسل کی چاروں نشستوں پر قبضہ کرلیا، جبکہ کانگریس کو کسی بھی حلقے میں کامیابی نہیں ملی۔
 
 
ان نتائج کو کرناٹک میں کانگریس کے لیے ایک سیاسی دھچکے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ 2023 کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس نے ریاست میں واضح اکثریت حاصل کرکے حکومت بنائی تھی۔ ایسے میں قانون ساز کونسل کی چار نشستوں پر شکست پارٹی کے لیے سیاسی طور پر اہم سمجھی جارہی ہے۔ یہ انتخابات بی جے پی اور جے ڈی (ایس) کے درمیان انتخابی تعاون کا بھی امتحان تھے۔ دونوں جماعتوں کی کامیابی سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ان حلقوں میں اپنے امیدواروں کے حق میں مقابلہ کرنے میں کامیاب رہیں۔ تاہم، قانون ساز کونسل کے ان نتائج سے ریاست کی کانگریس حکومت کے استحکام پر فوری طور پر کوئی بڑا اثر پڑنے کا امکان نہیں ہے۔ اس کے باوجود بی جے پی اور جے ڈی (ایس) کو حکومت پر تنقید کرنے اور اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
 
کرناٹک کی 75 رکنی قانون ساز کونسل میں کانگریس کے پاس 38، بی جے پی کے پاس 24 اور جے ڈی (ایس) کے پاس 6 نشستیں بتائی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک آزاد رکن بھی ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے نامزدگی کے لیے مختص پانچ نشستیں فی الحال خالی ہیں۔ مجموعی طور پر ان انتخابات میں این ڈی اے کی چاروں نشستوں پر کامیابی نے کرناٹک کی سیاست میں نئی بحث شروع کردی ہے، جبکہ کانگریس کے لیے ان نتائج کا جائزہ لینا اہم ہوگا۔