ممبئی کے علاقے جوہو میں بالی وڈ اداکار ٹائیگر شروف کی گاڑی پر نامعلوم افراد کی جانب سے مبینہ طور پر فائرنگ کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ اس واقعے میں اداکار محفوظ رہے، جبکہ ان کے ڈرائیور سمیت دو افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ زخمی ڈرائیور کے بائیں بازو میں گولی لگی ہے۔ واقعے کے بعد ممبئی پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ پولیس کے مطابق، فائرنگ کا یہ واقعہ مغربی ممبئی کے مضافاتی علاقے جوہو میں پولیس اسٹیشن کی حدود کے اندر پشپا پارک کے قریب گزشتہ شام پیش آیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق، حملہ آور وہاں پہنچے اور مبینہ طور پر ٹائیگر شروف کی گاڑی کو نشانہ بناتے ہوئے فائرنگ کی۔ واردات کے بعد ملزمان موقع سے فرار ہو گئے۔
واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دیں۔ ممبئی پولیس نے حملہ آوروں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے 15 ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔ ان ٹیموں میں ممبئی کرائم برانچ اور مقامی پولیس کے اہلکار شامل ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق، تفتیش کے دوران جائے وقوعہ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس عمل کے ذریعے حملہ آوروں کی شناخت کرنے، ان کی تعداد معلوم کرنے اور واردات کے بعد ان کے فرار ہونے کے راستے کا پتا لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تحقیقاتی ٹیمیں دستیاب شواہد کی مدد سے یہ جاننے کی کوشش بھی کر رہی ہیں کہ فائرنگ کس مقصد سے کی گئی اور اس واقعے میں کون کون ملوث ہو سکتا ہے۔ تاہم، فی الحال حملے کی وجہ اور ملزمان کے بارے میں کوئی حتمی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ وائرل ہو رہی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ لارنس بشنوئی گینگ نے فائرنگ کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ اس دعوے کے سامنے آنے کے بعد واقعے کو لے کر مزید سوالات اٹھ رہے ہیں۔ تاہم، ممبئی پولیس کی جانب سے اب تک اس پوسٹ یا اس میں کیے گئے دعوے کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ اس لیے فی الحال فائرنگ کو کسی مخصوص گینگ سے جوڑنا درست نہیں ہوگا۔ پولیس اس معاملے کی مختلف پہلوؤں سے جانچ کر رہی ہے۔
فائرنگ کے واقعے میں ٹائیگر شروف کے محفوظ رہنے کی اطلاع ہے، جبکہ زخمی افراد کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔ پولیس حملہ آوروں کی شناخت اور ان کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ حملے کے پیچھے کیا وجہ تھی اور سوشل میڈیا پر کیے گئے دعوے میں کتنی سچائی ہے۔ فی الحال پولیس سی سی ٹی وی فوٹیج، دستیاب شواہد اور دیگر معلومات کی بنیاد پر معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔







