ممبئی میں دیا مرزا کی دیوالی سے متعلق ویڈیو ہٹائے جانے کے معاملے پر بامبے ہائی کورٹ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن کو ہدایت دی ہے کہ وہ یہ ویڈیو فوری طور پر اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر دوبارہ پوسٹ کرے۔ سماعت جسٹس گریش کلکرنی اور جسٹس نیلا گوکھلے کی ڈویژن بنچ نے کی، جس میں بنچ نے واضح کیا کہ مفاد عامہ کی مہم میں شامل ہو کر ماحولیات اور آلودگی کے بارے میں بیداری پھیلانے والی شخصیات کو نشانہ بنانا مناسب نہیں۔
عدالت نے کہا کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے، ممبئی ایک ایسا شہر ہے جہاں سب مل جل کر رہتے ہیں، اور ماحولیات کے مسئلے کو کسی دوسرے تنازعے یا نظریاتی کشمکش سے نہ جوڑا جائے۔ بنچ کے مطابق کسی شہری کو ذات یا مذہب کی بنیاد پر عوامی مفاد کی مہم سے الگ کرنا ناقابل قبول ہے۔
یہ تنازعہ اس وقت کھڑا ہوا جب بی ایم سی نے ماحول دوست دیوالی کے تحت ایک آگاہی مہم میں اداکارہ دیا مرزا کی ویڈیو جاری کی، جس میں انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ عوامی سڑکوں پر پٹاخے جلانے سے گریز کریں اور شور و فضائی آلودگی کم کرنے میں تعاون دیں۔ عدالت کے مطابق ممبئی میں بڑھتی آلودگی کے تناظر میں اس نوعیت کی بیداری نہایت ضروری تھی اور بی ایم سی نے اس باب میں مؤثر اقدامات کیے۔
اسی مہم میں مادھوری دکشت، نشی گندھا واڈ اور کرکٹر اجنکیا رہانے سمیت متعدد بااثر شخصیات نے بھی پیغامات ریکارڈ کرائے، جن سب میں سماجی ہم آہنگی اور صحت عامہ کے تحفظ پر زور دیا گیا۔
تاہم ممبئی بی جے پی کے صدر امیت ساٹم نے سوشل میڈیا پر دیا مرزا کی ویڈیو پر اعتراض کیا اور کہا کہ دیوالی منانے کا طریقہ بتانے کے لیے کسی اداکارہ کی ضرورت نہیں، کیونکہ روایات پہلے ہی معاشرت میں راسخ ہیں۔ ان کے اعتراض کے چند گھنٹوں بعد بی ایم سی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے دیا مرزا کی ویڈیو ہٹا دی، جبکہ دیگر شخصیات کی ویڈیوز برقرار رہیں۔
اس کے بعد ممبئی کی میئر ریتو تاوڑے نے بھی اس فیصلے کی تائید کی اور دیا مرزا کو ہندو مخالف قرار دیتے ہوئے کہا کہ مہم میں شامل کرنے سے پہلے منتخب قیادت سے مشاورت نہیں کی گئی تھی۔
دیا مرزا نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کی ویڈیو بامبے ہائی کورٹ اور بی ایم سی کی ہدایت پر مفاد عامہ میں ریکارڈ کی گئی تھی، فضائی آلودگی صحت عامہ سے جڑا بحران ہے اور اسے کم کرنے کی ہر سعی کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔ عدالت نے سماعت میں یہ بھی کہا کہ پٹاخوں سے پیدا ہونے والی ہوا اور شور کی آلودگی پر قابو پانے کی ضرورت پر سب متفق ہیں، کیونکہ ملک میں ہر شخص ایک ہی فضا میں سانس لیتا ہے، لہٰذا اس معاملے میں گروہ بندی یا مذہبی عینک سے دیکھنے کی گنجائش نہیں۔
عدالت نے بی ایم سی کو ہدایت دی کہ سیاسی دباؤ یا تنازعے کے دوران مفاد عامہ کی مہم کی ساکھ متاثر نہ ہو، اس لیے ہٹائی گئی ویڈیو دوبارہ پوسٹ کی جائے تاکہ شہریوں کا آئین، قانونی عمل اور سماجی اتحاد پر اعتماد برقرار رہے۔ اس فیصلے کے بعد ویڈیو ہٹانے کا معاملہ صرف انتظامی قدم نہیں رہا بلکہ اظہار رائے، عوامی صحت اور شہری ذمہ داری کے دائرے میں اہم قانونی و سماجی بحث بن گیا ہے۔







