امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے لیے پولنگ کھلنے جا رہی ہے، جسے ماہرین اور مبصرین وسیع طور پر سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی میراث اور اثرورسوخ پر ایک غیر اعلانیہ ریفرنڈم قرار دے رہے ہیں۔ یہ انتخابات اسی تناظر میں ہو رہے ہیں کہ آیا ووٹرز ٹرمپ کے حمایت یافتہ امیدواروں اور ان کی سیاست کے بیانیے کی تائید کرتے ہیں یا اسے مسترد کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ ووٹنگ ملک کی مختلف ریاستوں میں صبح کے اوقات سے مرحلہ وار شروع ہوگی اور شام تک جاری رہے گی، جبکہ نتائج کے غیر سرکاری اندازوں کا سلسلہ پولنگ اسٹیشنز بند ہونے کے بعد سامنے آنا شروع ہوگا۔
ان انتخابات میں یہ طے ہوگا کہ کانگریس کے دونوں ایوانوں، یعنی ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستیں اور سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستیں کس کے پاس جائیں گی، اسی کے ساتھ درجنوں ریاستی گورنر شپ اور ریاستی قانون ساز اداروں کی نشستیں بھی داؤ پر لگی ہیں۔ چونکہ ووٹ قومی سطح پر ڈالے جا رہے ہیں، اس لیے ان کے نتائج صدر جو بائیڈن کی موجودہ انتظامیہ کی قانون سازی کی صلاحیت اور آئندہ 2 برس کی سمت پر براہ راست اثر انداز ہوں گے۔ اگر ریپبلکن پارٹی کو برتری ملتی ہے تو وائٹ ہاؤس کی ایجنڈا سازی کو کانگریس میں سخت مزاحمت کا سامنا ہو سکتا ہے، اور اگر ڈیموکریٹس اپنی اکثریت برقرار رکھتے ہیں تو بائیڈن کو داخلی اور معاشی اصلاحات میں نسبتاً آسانی مل سکتی ہے۔
یہ سوال بھی ووٹرز کے ذہنوں میں نمایاں ہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اثر کتنا گہرا ہے، کیونکہ انہوں نے مہم کے آخری ایام میں متعدد ریاستوں میں جلسوں سے خطاب کر کے اپنے حمایت یافتہ امیدواروں کے لیے ووٹ مانگا۔ ان ریاستوں میں پنسلوینیا، اوہایو، ایریزونا اور جارجیا شامل ہیں، جہاں سینیٹ اور گورنر کی دوڑیں نہایت کانٹے کی سمجھی جا رہی ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اگر ٹرمپ کے منظورِ نظر امیدوار بڑی تعداد میں کامیاب ہوتے ہیں تو یہ انہیں ممکنہ صدارتی دوڑ 2024 کے لیے حوصلہ دے سکتا ہے، اور اگر ناکامی زیادہ ہوئی تو ریپبلکن قیادت کے اندر ان کی پوزیشن کمزور پڑ سکتی ہے۔
یہ انتخابات متعدد اہم مسائل کے پس منظر میں ہو رہے ہیں، جن میں مہنگائی، روزگار، صحت کی نگہداشت، اسلحہ تشدد، امیگریشن اور اسقاطِ حمل کے حقوق شامل ہیں۔ مہنگائی کی بلند شرح اور معیشت کے مستقبل سے متعلق خدشات خاص طور پر ووٹرز کے فیصلے پر اثر انداز ہو رہے ہیں، جبکہ سپریم کورٹ کے ایک متنازع فیصلے کے بعد خواتین کے تولیدی حقوق بھی مہم کے مرکزی نکات میں شامل رہے۔ اسی طرح انتخابات کی شفافیت اور 2020 کے انتخابی عمل پر اٹھنے والی بحث نے بھی ووٹرز کی ترجیحات کو شکل دی ہے، اور متعدد ریاستوں میں ووٹنگ کے ضوابط اور ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کے طریقہ کار پر سختیاں اور نرمی دونوں طرح کی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
انتخابی عمل کے دوران سکیورٹی اور غلط معلومات کے پھیلاؤ سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور ریاستی اداروں نے اضافی اقدامات کیے ہیں۔ پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز کی رہنمائی کے لیے عملہ تعینات ہے، جبکہ بعض شہروں میں ووٹروں کی بڑی تعداد کے سبب قطاریں متوقع ہیں۔ حکام نے شہریوں سے پرامن انداز میں اپنا شہری فریضہ ادا کرنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ ہر جائز ووٹ کو گنا جائے گا۔
اگرچہ حتمی نتائج میں کچھ حلقوں میں وقت لگ سکتا ہے، لیکن آج کی پولنگ امریکی سیاست کے توازن، قانون سازی کی ترجیحات اور خود ریپبلکن پارٹی کے اندر قیادت کے رجحانات کا رخ متعین کرنے میں نمایاں ثابت ہو گی۔






