مغربی بنگال کے نندی گرام اسمبلی حلقے میں ہونے والا ضمنی انتخاب ایک نئے قانونی تنازع میں پھنس گیا ہے۔ بی جے پی امیدوار ہاسی رانی راتھ کے انتخابی حلف نامے میں درج عمر اور ان کے تعلیمی ریکارڈ سے متعلق ایک درخواست کلکتہ ہائی کورٹ میں دائر کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس معاملے پر عدالت میں آج سماعت ہونے والی ہے۔ وکیل رتجو گھوسال نے جسٹس کرشنا راؤ کی عدالت میں درخواست پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ہاسی رانی راتھ کے انتخابی حلف نامے میں ان کی عمر 60 سال سے زیادہ ظاہر کی گئی ہے۔ دوسری جانب حلف نامے میں ان کی تعلیمی معلومات کے تحت دسویں جماعت چھوڑنے یا اسکول سے متعلق سال 1965 درج ہونے کی بات کہی گئی ہے۔درخواست گزار کے وکیل کا کہنا ہے کہ امیدوار کی درج شدہ عمر اور 1965 میں دسویں جماعت چھوڑنے کے سال کے درمیان بظاہر تضاد نظر آتا ہے۔ اسی بنیاد پر انتخابی حلف نامے میں دی گئی معلومات کی جانچ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
جسٹس کرشنا راؤ نے وکیل رتجو گھوسال کو اس معاملے میں درخواست دائر کرنے کی اجازت دے دی۔ عدالت نے ہدایت دی کہ درخواست پر جمعرات کو سماعت کی جائے گی۔ عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ اس دوران معاملے سے متعلق مخالف فریق کو نوٹس جاری کیا جائے، تاکہ اسے اپنا موقف پیش کرنے کا موقع مل سکے۔ فی الحال عدالت نے امیدوار کے حلف نامے میں موجود معلومات کو غلط قرار نہیں دیا ہے۔ معاملے کی اگلی سماعت میں درخواست گزار کی جانب سے پیش کیے جانے والے شواہد اور متعلقہ فریق کے جواب کی بنیاد پر صورتحال مزید واضح ہو سکتی ہے۔
نندی گرام ضمنی انتخاب پہلے ہی سیاسی سرگرمیوں کے باعث توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اب بی جے پی امیدوار کے انتخابی حلف نامے سے متعلق یہ درخواست انتخابی عمل میں ایک نئی قانونی بحث کا سبب بن گئی ہے۔عدالت کی آئندہ سماعت میں بنیادی طور پر امیدوار کی عمر اور تعلیمی ریکارڈ سے متعلق درج معلومات میں مبینہ تضاد پر دلائل سنے جائیں گے۔ تاہم اس معاملے میں حتمی فیصلہ عدالت کی کارروائی اور پیش کیے جانے والے شواہد کے بعد ہی سامنے آئے گا۔ واضح رہے کہ صرف کسی حلف نامے کے خلاف اعتراض یا درخواست دائر ہونے سے اس میں درج معلومات غلط ثابت نہیں ہوتیں۔ اس معاملے پر عدالت کا فیصلہ اور متعلقہ فریق کا موقف سامنے آنا ابھی باقی ہے۔






