Wednesday, September 23, 2026 | 09 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • الیکشن کمیشن کے اندر اختلافات؟ 10 ماہ میں 14 اعتراضات، ایس آئی آر پر اٹھے نئے سوالات

الیکشن کمیشن کے اندر اختلافات؟ 10 ماہ میں 14 اعتراضات، ایس آئی آر پر اٹھے نئے سوالات

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: 23 Sept 2026

الیکشن کمیشن کے اندر اختلافات؟ 10 ماہ میں 14 اعتراضات، ایس آئی آر پر اٹھے نئے سوالات
 ہندوستان میں انتخابی عمل اور الیکشن کمیشن کی شفافیت کو لے کر گزشتہ چند برسوں سے جاری سیاسی بحث کے درمیان انڈین ایکس پریس  کی ایک حالیہ تحقیق نے الیکشن کمیشن کے اندر بعض فیصلوں اور انتخابی طریقۂ کار پر اختلافِ رائے سے متعلق نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔رپورٹ کے مطابق، دو الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ تقریباً 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ بعض فیصلوں اور طریقۂ کار پر اعتراضات درج کرائے۔
 
 
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان اعتراضات کا تعلق نئے ووٹروں کے اندراج، ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے، Form-6 میں تبدیلی، ووٹر ڈیٹا تک رسائی، آئی ٹی سسٹم میں تبدیلی اور Special Intensive Revision (SIR) سے متعلق بعض اقدامات سے تھا۔ یہ معاملہ اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اپوزیشن جماعتیں پہلے ہی انتخابی فہرستوں، ووٹر ڈیٹا اور SIR کے طریقۂ کار پر سوالات اٹھاتی رہی ہیں۔ تاہم الیکشن کمیشن کی جانب سے ان معاملات کو انتخابی فہرستوں کی درستگی اور شفافیت بہتر بنانے کے عمل کا حصہ قرار دیا جاتا رہا ہے۔
 
10 ماہ میں 14 اعتراضات، رپورٹ میں کیا دعویٰ؟
 رپورٹ کے مطابق، دونوں الیکشن کمشنروں کی جانب سے مختلف معاملات پر درج اعتراضات میں نئے ووٹروں کے اندراج، ناموں کے اخراج،فارم ۔6 میں مبینہ تبدیلیوں، ووٹر ڈیٹا کو مرکزی سطح پر رکھنے، آئی ٹی نظام میں تبدیلی اور Logical Discrepancy جیسی کیٹیگریز شامل تھیں۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض مواقع پر کمشنروں کو الیکشن کمیشن کے فیصلوں یا کارروائیوں کے بارے میں میڈیا رپورٹس کے ذریعے معلومات حاصل ہونے پر بھی اعتراض تھا۔
 
اگر یہ تفصیلات رپورٹ کے مطابق درست ہیں تو یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن کے اندر فیصلہ سازی، معلومات کے تبادلے اور اختلافِ رائے کا طریقۂ کار کس طرح کام کرتا ہے۔ تاہم محض کسی فیصلے پر اندرونی اعتراض کو انتخابی بے ضابطگی یا کسی بڑے گھپلے کا ثبوت قرار دینا الگ معاملہ ہے، جس کے لیے مزید دستاویزی شواہد اور متعلقہ اداروں کی وضاحت ضروری ہوگی۔
 
ایس آئی آر  پر پہلے ہی جاری ہے سیاسی تنازع
SIR کے ذریعے انتخابی فہرستوں کی جانچ اور نظرثانی گزشتہ کچھ عرصے سے سیاسی بحث کا اہم موضوع بنی ہوئی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے مختلف ریاستوں میں اس عمل کے دوران ووٹروں کے نام، دستاویزات اور انتخابی فہرستوں سے متعلق مسائل اٹھائے ہیں۔
 
 الیکشن کمیشن کا موقف 
دوسری جانب الیکشن کمیشن کا موقف رہا ہے کہ انتخابی فہرستوں کی درستگی جمہوری عمل کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور SIR کا مقصد اہل ووٹروں کو شامل رکھنا اور غیر درست یا غیر اہل اندراجات کی نشاندہی کرنا ہے۔
 
 بی جے پی اور اس کے حامیوں کی صفائی
حکمران جماعت بی جے پی اور اس کے حامیوں نے بھی SIR کو انتخابی فہرستوں کی صفائی اور انتخابی عمل کو مضبوط بنانے کے اقدام کے طور پر پیش کیا ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے اس کے طریقۂ کار اور ممکنہ اثرات پر سوالات اٹھائے ہیں۔
 
راہل گاندھی اور اپوزیشن کا ردعمل
حالیہ  رپورٹ سامنے آنے کے بعد کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے اسے انتخابی نظام سے متعلق اپنے پہلے سے جاری اعتراضات کے تناظر میں پیش کیا۔ انہوں نے ’’ووٹ چوری‘‘ کے اپنے الزام کو دہراتے ہوئے اسے آئینی نظام پر حملہ قرار دیا۔
 
سی ای سی کو عہدے سے ہٹانے کی مانگ 
اسی طرح شیوسینا (یو بی ٹی) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے اور معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیے جانے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔
 
الیکشن کمیشن کا کیا کہنا ہے؟
الیکشن کمیشن کی طرف سے بنیادی طور پر یہ مؤقف سامنے آتا رہا ہے کہ کسی ادارے کے اندر مختلف معاملات پر الگ الگ رائے یا تبصرے ہونا معمول کی بات ہے۔ کمیشن کے مطابق اختلافِ رائے کو بذاتِ خود کسی غیر قانونی کاروائی یا انتخابی بے ضابطگی کا ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔
یہ پہلو موجودہ تنازع میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ایک طرف اندرونی سطح پر بعض فیصلوں پر اعتراضات کی رپورٹ سامنے آئی ہے، تو دوسری طرف یہ بھی طے کرنا ضروری ہے کہ ان اعتراضات کی نوعیت کیا تھی، ان پر کمیشن کے اندر کیا کارروائی ہوئی اور آیا بعد میں کسی فیصلے میں تبدیلی کی گئی یا نہیں۔
 
اصل سوال: اعتراضات کے بعد کیا واضح ہوگا؟
موجودہ بحث میں بنیادی سوال صرف یہ نہیں کہ الیکشن کمیشن کے اندر اختلافِ رائے موجود تھا یا نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ ان اعتراضات کی مکمل دستاویزات کیا کہتی ہیں، اعتراضات کس بنیاد پر کیے گئے، کمیشن نے ان کا کیا جواب دیا اور متعلقہ انتخابی عمل پر ان کا عملی اثر کیا ہوا۔خاص طور پر Form-6، ووٹر ڈیٹا، آئی ٹی سسٹم اور Logical Discrepancy سے متعلق اعتراضات کی مکمل تفصیلات سامنے آنا بحث کو زیادہ واضح کر سکتا ہے۔
اگر کسی ادارے کے اعلیٰ عہدیدار کسی طریقۂ کار پر سوال اٹھاتے ہیں تو شفافیت کے نقطۂ نظر سے ان اعتراضات اور ان پر کیے گئے فیصلوں کی مناسب وضاحت عوامی اعتماد کے لیے اہم ہوتی ہے۔ تاہم اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ سیاسی دعووں، میڈیا رپورٹنگ، اندرونی اعتراضات اور ثابت شدہ انتخابی بے ضابطگی کے درمیان واضح فرق رکھا جائے۔
 
عوامی اعتماد سب سے اہم
الیکشن کمیشن ہندوستان کے انتخابی نظام کا مرکزی ادارہ ہے اور اس کی غیر جانب داری و شفافیت پر عوام کا اعتماد انتخابی عمل کی بنیادی ضرورت ہے۔ اسی لیے SIR، ووٹر فہرستوں، ڈیٹا مینجمنٹ اور اندرونی فیصلہ سازی سے متعلق سامنے آنے والے ہر سوال کا جواب دستاویزات، واضح طریقۂ کار اور قابلِ جانچ معلومات کے ذریعے دینا اہم ہوگا۔رپورٹ نے الیکشن کمیشن کے اندر بعض فیصلوں پر مبینہ اختلافِ رائے کو سیاسی بحث کے مرکز میں ضرور لا کھڑا کیا ہے، لیکن ان اعتراضات سے متعلق حتمی نتیجہ اخذ کرنے کے لیے مکمل ریکارڈ، کمیشن کی وضاحت اور اگر کوئی عدالتی جانچ ہو تو اس کے نتائج کا انتظار کرنا ضروری ہوگا۔
 
فی الحال معاملہ سیاسی بیانات سے آگے بڑھ کر اداروں کی شفافیت، انتخابی فہرستوں کی درستگی اور عوام کے انتخابی عمل پر اعتماد کے سوال سے جڑ گیا ہے۔ آنے والے دنوں میں ان اعتراضات سے متعلق مزید دستاویزات اور وضاحتیں سامنے آتی ہیں یا نہیں، یہی اس بحث کی سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ الیکشن کمیشن   میں  ہی جمہوری رائے کی قدر نہیں کی جا رہی ہے تو کیا  ملک میں جمہوری  نظام   ٹھیک سے چل رہا ہے۔ یہ تمام جمہوریت پسند  افراد کو سوچنے کی ضروت ہے۔