جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمرعبداللہ نے الیکشن کمشنرز کی جانب سے ایس آئی آرسے متعلق حالیہ انکشافات پر ردِعمل ظاہر کیا۔ انھوں نے کہا ہے کہ ان بیانات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے ۔ سرینگر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ووٹروں کو حقِ رائے دہی سے محروم کرنا براہِ راست جمہوریت پر حملہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کے مؤقف کی مکمل تائید کرتے ہوئے کہا کہ یہ قدم ملک کے آئین پر حملے کے مترادف ہے۔
انتخابات رجحان پر اثر پڑسکتا ہے
انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔عبداللہ نے کہا کہ مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن کو ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کے عمل سے متعلق خدشات پر توجہ دینی چاہیے اور انہیں حل کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ انتخابات کا انحصار عوامی شرکت اور اعتماد پر ہوتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ووٹرز اس عمل پر شک کرنے لگیں تو اس سے انتخابات میں حصہ لینے کے ان کے رجحان پر اثر پڑ سکتا ہے۔
جمہوریت کے بنیادی اصولوں کو پامال کرنے بی جےپی پر الزام
پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی نے ووٹر فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی کے معاملے پر بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کے کام کاج اور ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے عمل پر بھی سوال اٹھائے۔محبوبہ مفتی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایس آئی آر کے تحت ووٹر فہرستوں کی نظرثانی جاری ہے اور الیکشن کمیشن کے اندر بعض معاملات پر اختلافات کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔
انتخابی عمل کو بگاڑنے کی کوشش کا الزام
جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر انتخابی فہرستوں میں دھاندلی کرکے انتخابی عمل کو خراب کرنے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا۔ محبوبہ مفتی نے الزام لگایا کہ بی جے پی ہندوستانی جمہوریت کے بنیادی اصولوں کو پامال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بدھ کے روز خبردار کیا کہ اگر انتخابی فہرستوں میں "گڑبڑی" کی گئی تو ہندوستان کو " ریپبلک بنانا" مشکل ہے۔
الیکشن کمیشن پر میں اندرونی اختلافات
ایس آئی آر کے معاملے پر تین رکنی الیکشن کمیشن کے اندرونی اختلافات سامنے آنے کے بعد ملک بھر میں زبردست سیاسی ہلچل مچ گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق، الیکشن کمشنرز سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ 10 مہینوں کے دوران کم از کم 14 بار ریکارڈ پر اعتراضات اٹھائے تھے۔ یہ اعتراضات مبینہ طور پر ان فیصلوں اور احکامات کے بارے میں تھے جن کے بارے میں دونوں کمشنرز کا دعویٰ تھا کہ وہ ان کی معلومات کے بغیر کیے یا جاری کیے گئے تھے۔






