آندھرا پردیش کے سریکاکلم ضلع میں سمندری طوفان کے ممکنہ اثرات کے پیش نظر ریڈ الرٹ برقرار رکھا گیا ہے۔ ضلع کلکٹر سوپنل دنکر نے بتایا کہ آج شام سے نصف شب کے درمیان ساحلی علاقے کے تقریباً 10 منڈلوں میں طوفان کے اثرات محسوس ہونے کا امکان ہے۔ صورتحال کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ کو مکمل طور پر چوکس کر دیا گیا ہے۔کلکٹر کے مطابق ساحلی دیہات میں پہلے ہی احتیاطی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔ ضرورت کے مطابق مختلف علاقوں میں سائیکلون شیلٹرز اور بحالی مراکز قائم کیے گئے ہیں، جہاں متاثرہ یا خطرے والے علاقوں سے منتقل کیے جانے والے لوگوں کے لیے ضروری انتظامات کیے گئے ہیں۔ انتظامیہ نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کمزور مکانات، پھوس کی چھت والے گھروں یا ایسی عمارتوں میں نہ رہیں جہاں چھت یا ڈھانچے کے گرنے کا خطرہ ہو۔ لوگوں کو ضرورت پڑنے پر اپنے رشتہ داروں کے محفوظ گھروں یا قریبی بحالی مراکز میں منتقل ہونے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
ضلع کلکٹر نے بتایا کہ بحالی مراکز میں لوگوں کے لیے ضروری سہولیات کا انتظام کر لیا گیا ہے۔ خوراک، دودھ اور دیگر بنیادی ضروریات دستیاب رکھی گئی ہیں تاکہ طوفان کے دوران لوگوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ دریں اثنا، دریائی طاس کے علاقوں میں بھی انتظامیہ نے خاص احتیاط برتنے کی ہدایت دی ہے۔ کلکٹر کے مطابق ایسے 53 دیہات کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں ناگاولی اور وامسادھارا دریاؤں میں پانی کی سطح بڑھنے سے سیلاب کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
ضلع کے مختلف علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ بارش کے باعث کچھ مقامات پر پانی سڑکوں تک پہنچ گیا ہے، جبکہ کئی تالاب بھی تیزی سے بھر رہے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے نشیبی علاقوں پر خصوصی نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح بڑھنے کی صورت میں فوری کارروائی کی جا سکے۔ کلکٹر نے بتایا کہ صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے ضلعی اور منڈل سطح پر کنٹرول روم 24 گھنٹے کام کر رہے ہیں۔ متعلقہ محکموں، خاص طور پر ریونیو حکام کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ٹیمیں تیار ہیں اور ضرورت پڑنے پر متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے گا۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ گھبرانے کے بجائے انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں اور موسم سے متعلق تازہ اطلاعات پر نظر رکھیں۔






