الیکشن کمیشن کے خلاف اپوزیشن کا احتجاجی سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ کانگریس نے اس معاملے پر آج اپنے تمام جنرل سیکریٹریز، ریاستی انچارجز اور ریاستی یونٹ کے صدور کا اجلاس شام 4 بجے طلب کیا ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے منگل 6 ستمبر کو الیکشن کمیشن کے دفتر تک مارچ کا بھی پروگرام بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کو لے کر جنتر منتر سمیت مختلف مقامات پر احتجاج جاری ہیں۔ آج کا دن اس لیے بھی اہم ہے کہ سپریم کورٹ میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر لگائے گئے ان الزامات سے متعلق سماعت ہونی ہے، جن میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے بعض معاملات میں یکطرفہ طور پر فیصلے کیے۔
اپوزیشن کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ عدالت الیکشن کمیشن کے اجلاسوں کی تفصیلات طلب کرے اور پورے معاملے کی عدالتی جانچ کرائے۔ اس کے ساتھ یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ گیانیش کمار کو چیف الیکشن کمشنر کی حیثیت سے بعض اختیارات استعمال کرنے سے روکا جائے۔ اسی دوران سپریم کورٹ کے جسٹس اجل بھویان کے حالیہ ریمارکس بھی سیاسی بحث کا مرکز بن گئے ہیں۔ حیدرآباد کی NALSAR یونیورسٹی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس بھویان نے کہا تھا کہ بڑی تعداد میں لوگوں کو ووٹ کے حق سے محروم کرنا من مانی کارروائی کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق کسی ووٹر کا نام انتخابی فہرست سے بغیر نوٹس اور سماعت کے نہیں ہٹایا جا سکتا، سوائے اس صورت کے جب ووٹر کی موت ہو چکی ہو۔
کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے جسٹس بھویان کے ریمارکس کو اہم قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ چیف الیکشن کمشنر نے آئین کی روح اور الفاظ دونوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس بھویان کے بیان نے چیف الیکشن کمشنر کے کردار پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں اور گیانیش کمار اپنے عہدے پر برقرار رہنے کا اخلاقی جواز کھو چکے ہیں۔ ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے بھی جسٹس بھویان کے بیان کی تعریف کی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کہا کہ برسرِ عہدہ جج کا اقتدار کے سامنے سچ بولنا ایک مثال قائم کرتا ہے۔
اتوار کو دہلی اور ممبئی میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ انڈین یوتھ کانگریس نے دہلی میں مارچ نکالا اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ دوسری جانب انڈیا گیٹ پر احتجاج کرنے والے عام آدمی پارٹی کے ایک درجن سے زیادہ کارکنوں اور رہنماؤں کو پولیس نے حراست میں لیا۔ پارٹی کے مطابق دہلی یونٹ کے سربراہ سوربھ بھاردواج، ارکان اسمبلی سنجیو جھا اور کلدیپ کمار سمیت ’ایسوسی ایشن آف اسٹوڈنٹس فار آلٹرنیٹو پولیٹکس‘ کے کارکنوں اور رضاکاروں کو بھی حراست میں لیا گیا۔ بی جے پی نے الزام لگایا کہ اپوزیشن دہلی کے سیاسی ماحول کو خراب کرنے اور امن و امان میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ممبئی میں مہا وکاس اگھاڑی کے زیر اہتمام بھی بڑا احتجاج ہوا۔ شیو سینا (یو بی ٹی) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر بی جے پی کے لیے ’آلہ کار‘ کے طور پر کام کرنے کا الزام عائد کیا، جبکہ ایم این ایس سربراہ راج ٹھاکرے نے مہاراشٹر میں ووٹر لسٹ کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ ٹھاکرے برادران کی قیادت میں نکالے گئے احتجاجی مارچ میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔ بعد میں یہ مارچ ایک ریلی میں تبدیل ہوگیا، جس میں کانگریس کے بالاصاحب تھوراٹ اور وجے وڈیٹیوار، این سی پی (ایس پی) کے جینت پاٹل، ششیکانت شنڈے، جتیندر اوہاڈ اور انیل دیش مکھ سمیت دیگر اپوزیشن رہنما بھی موجود رہے۔







