10 کروڑ ووٹرس کی جانچ میں صرف 1600 غیر ملکیوں کی شناخت کا دعویٰ
کرناٹک میں تقریباً 99.7 لاکھ نام حذف ہونے پر بھی اٹھائے سوالات
کانگریس نے ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی، یعنی ایس آئی آر (SIR)، کے عمل کو لے کر مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن پر سوالات اٹھائے ہیں۔ پارٹی کا الزام ہے کہ اس عمل کے ذریعے بڑی تعداد میں ہندوستانی شہریوں کو ان کے حقِ رائے دہی سے محروم کیا جا رہا ہے۔ کانگریس نے یہ بھی کہا ہے کہ غیر ملکی ووٹروں کی شناخت کے حوالے سے سامنے آئے اعداد و شمار اس کارروائی کی ضرورت پر سوال کھڑے کرتے ہیں۔ جب کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا کے رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ شیئر کی۔ اس میں انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے ایس آئی آر کے عمل پر سوالات کیے۔
10 کروڑ ووٹرس کی جانچ میں صرف 1600 غیر ملکی؟
جے رام رمیش کی شیئر کردہ ’ہندوستان ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق، کرناٹک، جھارکھنڈ، میگھالیہ، کیرالا، گوا اور میزورم میں ایس آئی آر کے دوران تقریباً 10 کروڑ رجسٹرڈ ووٹروں کی جانچ کی گئی۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ اس کارروائی کے دوران مجموعی طور پر صرف 1600 افراد کی شناخت غیر ملکی شہریوں کے طور پر ہوئی۔ کانگریس نے سوال اٹھایا کہ جب اتنی بڑی تعداد میں ووٹروں کی جانچ کے بعد غیر ملکی شہریوں کی تعداد اتنی کم سامنے آئی، تو پھر ووٹر لسٹوں سے لاکھوں نام حذف کرنے کی بنیاد کیا تھی؟ پارٹی کے مطابق، ان اعداد و شمار کی روشنی میں ایس آئی آر کے طریقۂ کار اور اس کے نتائج کی وضاحت ضروری ہے۔
کرناٹک میں 99.7 لاکھ نام حذف ہونے کا دعویٰ
جے رام رمیش نے کرناٹک کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ریاست میں ووٹر لسٹ سے تقریباً 99.7 لاکھ نام حذف کیے گئے، جبکہ صرف 716 افراد کی شناخت غیر ملکی شہریوں کے طور پر ہوئی۔ ان کے مطابق، ان 716 افراد میں 545 نیپال کے شہری بتائے گئے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ حذف کیے گئے ناموں اور شناخت کیے گئے غیر ملکی شہریوں کی تعداد میں بڑا فرق اس کارروائی کے معیار اور شفافیت پر سوال اٹھاتا ہے۔ پارٹی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ باقی 20 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے اعداد و شمار سامنے نہیں لائے گئے۔ جے رام رمیش کے مطابق، الیکشن کمیشن نے اس سلسلے میں معلومات جمع کرنے کے لیے باقاعدہ ہدایات جاری نہیں کیں، جس سے شفافیت کے بارے میں خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
ایس آئی آر کے مقاصد پر بھی سوال
کانگریس کے مطابق، وزیر داخلہ امت شاہ نے ایس آئی آر کے تین مقاصد بتائے تھے: دراندازوں کی شناخت کرنا، ان کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹانا اور انہیں ملک سے باہر نکالنا۔ پارٹی کا استدلال ہے کہ دستیاب اعداد و شمار ان مقاصد کے حصول کے طریقۂ کار پر سوال اٹھاتے ہیں۔ جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ ایس آئی آر کو وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی منصوبہ بندی کے تحت آگے بڑھایا گیا، جبکہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے الیکشن کمیشن کے ڈیجیٹل نظام، ای سی آئی نیٹ (ECINET)، سمیت مختلف ذرائع سے اس پر عمل درآمد کرایا۔ یہ کانگریس کے الزامات ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق رپورٹ میں نہیں کی گئی۔
کانگریس کے تین مطالبات
کانگریس نے اپنے مطالبات دہراتے ہوئے کہا ہے کہ:
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹایا جائے۔
ایس آئی آر کے عمل کو فوری طور پر معطل کیا جائے۔
ای سی آئی نیٹ میں اصلاحات کی جائیں، تاکہ ووٹروں کے ڈیٹا کے اندراج، جانچ اور نام حذف کرنے کا عمل شفاف، جواب دہ اور جانچ کے قابل ہو۔ کانگریس نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کو پارلیمانی فورمز اور عدالتوں میں بھی اٹھانے کے لیے تیار ہے، تاکہ ووٹروں کے حقِ رائے دہی کا تحفظ کیا جا سکے۔ فی الحال، فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق، ان تازہ الزامات پر الیکشن کمیشن یا وزارت داخلہ کا کوئی نیا سرکاری ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔






