Thursday, October 29, 2026 | 17 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • نیٹ-یو جی پیپر لیک کیس: 14 ملزمان کے خلاف فیصلہ محفوظ، 18 نومبر کو ہوگی اگلی سماعت

نیٹ-یو جی پیپر لیک کیس: 14 ملزمان کے خلاف فیصلہ محفوظ، 18 نومبر کو ہوگی اگلی سماعت

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 29 Oct 2026

نیٹ-یو جی پیپر لیک کیس: 14 ملزمان کے خلاف  فیصلہ محفوظ، 18 نومبر کو ہوگی اگلی سماعت
دہلی کی خصوصی عدالت نے فریقین کے دلائل سنے
سی بی آئی نے 13 ملزمان کے خلاف چالان اور ایک ملزم کے خلاف ضمنی چالان داخل کیا تھا
 
 نیٹ-یو جی پیپر لیک معاملے میں دہلی کی ایک خصوصی عدالت نے جمعرات کو 14 ملزمان کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے سے متعلق اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ اس معاملے میں تفصیلی حکم 18 نومبر کو سنایا جائے گا۔ اس کیس کی سماعت خصوصی جج اجے گپتا کر رہے ہیں۔ انہوں نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد حکم محفوظ کیا۔ اب عدالت یہ طے کرے گی کہ ملزمان کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے فردِ جرم عائد کرنے کی بنیاد موجود ہے یا نہیں اور معاملہ کن قانونی دفعات کے تحت آگے بڑھے گا۔
 
سی بی آئی نے 14 ملزمان کے خلاف کارروائی کی
 
اس معاملے کی جانچ مرکزی تحقیقاتی بیورو، یعنی سی بی آئی کر رہی ہے۔ ایجنسی نے اس سال عدالت میں 13 ملزمان کے خلاف چالان پیش کیا تھا۔ بعد میں سی بی آئی نے 14ویں ملزم شیشراو بجڑنگ سوریہ ونشی عرف راج سوریہ ونشی کے خلاف ضمنی چالان بھی داخل کیا۔ وہ مہاراشٹر کے ضلع ناندیڑ کے رہنے والے ہیں اور انہیں 2 ستمبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔ عدالت کے مطابق، تمام ملزمان کو سمن جاری کیے گئے اور فردِ جرم کے مرحلے پر انہیں اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔یہ مقدمہ ایک خصوصی تیز رفتار عدالت میں چل رہا ہے، جہاں امتحانی پرچوں کے افشا اور عوامی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق مقدمات کی سماعت کی جاتی ہے۔
 
نیٹ-یو جی امتحان کیوں ہوا تھا منسوخ؟
 
نیٹ-یو جی، یعنی نیشنل اہلیجیبلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ (انڈر گریجویٹ)، ملک میں میڈیکل کورسز میں داخلے کے لیے منعقد کیا جاتا ہے۔ یہ امتحان نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کراتی ہے۔ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، 3 مئی کو منعقد ہونے والا امتحان پیپر لیک کے الزامات کے بعد تنازعے میں آ گیا تھا۔ اس کے بعد 12 مئی کو این ٹی اے نے امتحان منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔ امیدواروں کے تعلیمی نقصان کو کم کرنے اور امتحانی شفافیت برقرار رکھنے کے لیے دوبارہ امتحان 21 جون کو منعقد کیا گیا۔ اس معاملے نے ملک بھر میں امتحانی نظام کی شفافیت اور طلبہ کے مستقبل سے متعلق کئی سوالات کھڑے کیے تھے۔
 
اب 18 نومبر کے فیصلے پر نظریں
 
سی بی آئی کی جانب سے پیش کیے گئے مواد میں مبینہ پیپر لیک اور اس سے جڑی انتظامی بے ضابطگیوں میں مختلف افراد کے کردار کا ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم، عدالت نے ابھی ملزمان کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں سنایا ہے۔ قانونی طریقۂ کار کے مطابق، اگر عدالت فردِ جرم عائد کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو مقدمہ باقاعدہ ٹرائل کے مرحلے میں داخل ہوگا۔ اس دوران گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے جائیں گے اور پیش کیے گئے شواہد کا جائزہ لیا جائے گا۔ دوسری جانب، ملزمان کو بھی اپنے دفاع میں دلائل اور شواہد پیش کرنے کا حق حاصل ہوگا۔ نیٹ-یو جی میں ہر سال لاکھوں طلبہ شرکت کرتے ہیں، اس لیے اس معاملے کا فیصلہ امتحانی نظام پر اعتماد کے حوالے سے اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اب 18 نومبر کو عدالت کے حکم کا انتظار ہے، جس سے واضح ہوگا کہ 14 ملزمان کے خلاف مقدمہ کس طرح آگے بڑھے گا۔