رشتوں میں اختلاف کوئی نئی بات نہیں، لیکن سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال نے میاں بیوی اور جوڑوں کے درمیان تعلقات کو ایک نئی شکل دے دی ہے۔ ہر وقت آن لائن رہنا، دوسرے لوگوں کی زندگیوں سے اپنے رشتے کا موازنہ کرنا، پیغامات کا جواب نہ ملنے پر شک کرنا اور نجی معاملات کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنا بعض اوقات معمولی اختلاف کو بھی بڑے تنازع میں تبدیل کر دیتا ہے۔ ایسے حالات میں رشتے کو الزام دینے کے بجائے مسئلے کو سمجھنے اور حل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
منصف ٹی وی کے خصوصی پروگرام ’ہیلتھ اور ہم‘ میں “When Love Needs Help, Not Blame: Couple Therapy in the Age of Social Media” کے موضوع پر Dr. Shiwani Kohli، Clinical Psychologist، KIMS-SUNSHINE Hospitals، Begumpet، Hyderabad نے تفصیلی روشنی ڈالی۔
ماہرین کے مطابق رشتے میں اختلاف ہونا خود کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب بات چیت کم ہو جائے، ہر اختلاف الزام تراشی میں بدلنے لگے یا دونوں افراد ایک دوسرے کو سمجھنے کے بجائے اپنی بات ثابت کرنے پر توجہ دینے لگیں۔ سوشل میڈیا اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے، کیونکہ آن لائن نظر آنے والی زندگی اکثر حقیقت کی مکمل تصویر نہیں ہوتی۔
Couple Therapy کا مقصد کسی ایک فرد کو قصوروار قرار دینا نہیں بلکہ دونوں افراد کو ایک دوسرے کے نقطۂ نظر کو سمجھنے میں مدد دینا ہے۔ ایک ماہرِ نفسیات گفتگو کے دوران ایسے مسائل کی نشاندہی کرنے میں مدد کر سکتا ہے جو بار بار جھگڑے کا سبب بن رہے ہوں۔ اس عمل میں مؤثر گفتگو، اعتماد، جذبات کا اظہار اور اختلاف کو صحت مند انداز میں حل کرنے کی صلاحیت پر کام کیا جاتا ہے۔
رشتے میں موبائل فون کا حد سے زیادہ استعمال بھی فاصلے کا سبب بن سکتا ہے۔ اگر ایک ساتھی مسلسل فون میں مصروف رہے اور دوسرے کو نظر انداز کیے جانے کا احساس ہو تو وقت کے ساتھ ناراضی اور جذباتی دوری بڑھ سکتی ہے۔ اسی طرح سابقہ تعلقات، سوشل میڈیا پر کسی خاص شخص سے مسلسل رابطہ یا شریکِ حیات کی آن لائن سرگرمیوں پر ضرورت سے زیادہ نظر رکھنا بھی اعتماد کے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مدد لینے کے لیے رشتہ مکمل طور پر خراب ہونے کا انتظار ضروری نہیں۔ اگر ایک ہی مسئلے پر بار بار جھگڑا ہو، بات چیت بند ہو جائے، اعتماد متاثر ہو یا دونوں افراد خود سے مسئلہ حل نہ کر پا رہے ہوں تو Couple Therapy ایک مفید راستہ ہو سکتا ہے۔
صحت مند رشتہ صرف محبت سے نہیں بلکہ احترام، اعتماد، کھلی گفتگو اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش سے مضبوط ہوتا ہے۔ بعض اوقات رشتے کو ختم کرنے یا کسی ایک کو موردِ الزام ٹھہرانے سے پہلے اسے سمجھنے اور بہتر بنانے کے لیے مدد لینا زیادہ اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
قارئین آپ ڈاکٹر شیوانی کوہلی، کلینیکل سائیکالوجسٹ، کِمزسنشائن ہاسپٹل، بیگم پیٹ حیدرآباد کی مکمل گفتگو👇یہاں دیکھ سکتےہیں۔ ساتھ ہی منصف ٹی وی ہیلتھ پر صحت سے متعلق ہزاروں ویڈیوز بھی دیکھ سکتےہیں۔







