Saturday, October 24, 2026 | 12 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • دہلی: 10 روپے کے پھٹے نوٹ پر تنازعہ، زہریلا مادہ پینے والے ڈیلیوری بوائے کی موت، ملزمین گرفتار

دہلی: 10 روپے کے پھٹے نوٹ پر تنازعہ، زہریلا مادہ پینے والے ڈیلیوری بوائے کی موت، ملزمین گرفتار

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 24 Oct 2026

دہلی: 10 روپے کے پھٹے نوٹ پر تنازعہ، زہریلا مادہ پینے والے ڈیلیوری بوائے کی موت، ملزمین گرفتار
دہلی میں محض 10 روپے کے پھٹے ہوئے نوٹ پر ہوئے تنازعے اور مبینہ مارپیٹ کے بعد زہریلا مادہ پینے والے 23 سالہ ڈیلیوری بوائے سمیر حسین کی دورانِ علاج موت ہوگئی۔ پولیس نے گاہک رامپال سنگھ اور اس کے پڑوسی راکیش عرف بنٹی کو گرفتار کرلیا ہے۔ سمیر کی موت کے بعد ایف آئی آر میں خودکشی کے لیے اکسانے سے متعلق دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔ دارالحکومت دہلی کے مشرقی علاقے ونود نگر میں پیش آنے والے اس واقعے نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ فلپ کارٹ منٹس میں ڈیلیوری ایگزیکٹیو کے طور پر کام کرنے والے سمیر حسین 4 اکتوبر کو کافی کا ایک جار پہنچانے 65 سالہ رامپال سنگھ کے گھر گئے تھے۔ الزام ہے کہ آرڈر کی رقم ادا کرتے وقت رامپال نے انہیں 10 روپے کا پھٹا ہوا نوٹ دیا۔ سمیر نے نوٹ تبدیل کرنے کی درخواست کی، جس کے بعد دونوں کے درمیان بحث شروع ہوگئی۔
 
سمیر نے اس واقعے سے متعلق اپنے موبائل فون میں چند ویڈیوز بھی ریکارڈ کی تھیں۔ ان کے مطابق، گاہک نے کہا تھا، ’’پیسے لینے ہیں تو لے لو، ورنہ یہاں سے چلے جاؤ۔‘‘ سمیر نے یہ الزام بھی لگایا کہ رامپال سنگھ نے اپنے سیاسی روابط کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں مارنے کی دھمکی دی۔ سمیر کے بیان کے مطابق، اسی دوران رامپال کا پڑوسی راکیش عرف بنٹی، جس کی عمر 30 سال بتائی گئی ہے، وہاں پہنچا اور اس نے سمیر کو تین سے چار مرتبہ تھپڑ مارے۔ سمیر نے الزام لگایا کہ ان کی معاشی حالت کو لے کر بھی ان کی توہین کی گئی۔ واقعے کے بعد سمیر نے پولیس میں شکایت درج کروائی تھی۔ تاہم، اپنی ریکارڈ کردہ ویڈیو میں انہوں نے انصاف ملنے کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا تھا۔
 
سمیر کی ایک ویڈیو میں ان کے ہاتھ میں ایک بوتل دکھائی دیتی ہے، جس میں موجود مادے کو انہوں نے دوا بتایا تھا۔ ویڈیو میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر اگلے 24 گھنٹوں میں انہیں انصاف نہیں ملا تو وہ یہ مادہ پی لیں گے۔ سمیر نے اپنی والدہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا تھا، ’’میری خودداری کو پوری طرح کچل دیا گیا ہے۔ امی، آپ کا بیٹا بہت مضبوط ہے، لیکن یہ سماج اسے جینے نہیں دے گا۔‘‘ ایک دوسری مبینہ ویڈیو میں سمیر کو بوتل میں موجود مائع پیتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس کے بعد وہ کہتے ہیں، ’’میں مرنے والا ہوں۔‘‘
 
سمیر کے چچا محمد شمیم کے مطابق، سمیر نے 5 اکتوبر کو چوہوں کو مارنے کے لیے استعمال ہونے والا زہریلا مادہ پی لیا تھا۔ اس کے بعد انہیں مشرقی دہلی کے لال بہادر شاستری اسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی گئی تھی۔ محمد شمیم نے بتایا، ’’5 اکتوبر کو ہمیں فون آیا کہ سمیر نے زہریلا مادہ پی لیا ہے اور اسے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ جب ہم وہاں پہنچے تو اس کی حالت تشویشناک تھی۔‘‘انہوں نے مزید بتایا کہ سمیر کے والد ذاکر علی بیمار ہیں، اسی وجہ سے سمیر نے ملازمت اختیار کی تھی۔ وہ اپنی تعلیم کے لیے رقم جمع کرنا چاہتے تھے۔ علاج کے دوران 20 اکتوبر کو سمیر کی موت ہوگئی۔ ان کی موت کے اگلے دن، 21 اکتوبر کو، ان کی 24ویں سالگرہ تھی۔
 
دونوں ملزمین گرفتار، ایف آئی آر میں نئی دفعات شامل
 
مشرقی دہلی کے ڈپٹی کمشنر پولیس راجیو کمار کے مطابق، شکایت موصول ہونے کے بعد پولیس نے ایف آئی آر درج کی تھی اور اس معاملے میں دونوں ملزمین کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ایک سینئر پولیس افسر کے مطابق، سمیر کی موت کے بعد ایف آئی آر میں خودکشی کے لیے اکسانے سے متعلق دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔ پولیس کے مطابق، رامپال سنگھ کی ایک دکان ہے، جبکہ راکیش بے روزگار ہے۔ واقعے کے وقت رامپال کے خاندان کے افراد گھر پر موجود نہیں تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بحث کی آواز سن کر راکیش باہر آیا تھا۔ اس نے مبینہ طور پر سمیر سے کہا کہ ایک بزرگ شخص سے بحث کرنے پر انہیں شرم آنی چاہیے، جس کے بعد اس نے سمیر کو تھپڑ مارے۔ پولیس معاملے کی مزید تفتیش کر رہی ہے۔ دونوں ملزمین کے خلاف الزامات کی قانونی جانچ جاری ہے اور کیس میں آئندہ کارروائی تفتیش کے نتائج اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر آگے بڑھے گی۔