وزارتِ داخلہ سے موصول ہونے والی معلومات کی بنیاد پر دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے مرکزی ایجنسیوں کے تعاون سے 28 ستمبر 2026 کو نئی دہلی میں دو سرکاری اہلکاروں کو گرفتار کیا ہے۔ دونوں پر ایک تنظیم کی زیرِ التوا FCRA رجسٹریشن میں مدد فراہم کرنے کے بدلے رشوت طلب کرنے کا الزام ہے۔ گرفتار کیے گئے اہلکاروں میں ایک سینئر اکاؤنٹنٹ جبکہ دوسرا اکاؤنٹنٹ کے عہدے پر تعینات ہے۔ وزارتِ داخلہ کے مطابق، دونوں مبینہ طور پر ایک تنظیم کے نمائندوں سے رابطے میں تھے اور FCRA رجسٹریشن کے عمل کو آگے بڑھانے کے بدلے غیر قانونی ادائیگی کا مطالبہ کر رہے تھے۔
وزارتِ داخلہ کے مطابق گرفتار کیے گئے اہلکاروں میں سے ایک اس وقت وزارت کے ’فارنرز ڈویژن‘ میں تعینات ہے۔ دوسرا اہلکار فی الحال ’پے اینڈ اکاؤنٹس آفس‘ میں کام کر رہا ہے، تاہم وہ اس سے پہلے فارنرز ڈویژن میں تعینات رہ چکا ہے۔ ابتدائی پوچھ تاچھ کے دوران مبینہ طور پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ دونوں اہلکار مختلف تنظیموں کے FCRA رجسٹریشن اور تجدید کے معاملات میں رابطے میں رہتے تھے۔ الزام ہے کہ وہ غیر قانونی ادائیگیوں کے عوض رجسٹریشن یا تجدید کے عمل میں سہولت فراہم کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ وزارتِ داخلہ نے کہا ہے کہ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے اور تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے شواہد کی بنیاد پر مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔
وزارتِ داخلہ نے واضح کیا ہے کہ FCRA سے متعلق تمام خدمات آن لائن FCRA پورٹل کے ذریعے فراہم کی جاتی ہیں۔ کسی بھی درمیانی شخص، ایجنٹ یا فرد کو FCRA سے متعلق خدمات فراہم کرنے یا رجسٹریشن کے عمل میں غیر مجاز طور پر مداخلت کرنے کا اختیار نہیں دیا گیا ہے۔ وزارت نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ بدعنوانی کے خلاف ’زیرو ٹالرنس‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اس معاملے میں مناسب قانونی اور محکمانہ کارروائی کی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق، FCRA رجسٹریشن یا تجدید سے متعلق کسی بھی کام کے لیے غیر مجاز افراد کو رقم دینے سے گریز کرنا چاہیے اور صرف سرکاری آن لائن نظام کے ذریعے ہی درخواست اور دیگر کارروائی مکمل کی جانی چاہیے۔






