Thursday, October 08, 2026 | 25 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کے خلاف ایف آئی آر، آکاشوانی بھون میں مبینہ داخلے کا الزام

راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کے خلاف ایف آئی آر، آکاشوانی بھون میں مبینہ داخلے کا الزام

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 07 Oct 2026

 راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کے خلاف ایف آئی آر، آکاشوانی بھون میں مبینہ داخلے کا الزام
کانگریس رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کے خلاف دہلی پولیس نے آکاشوانی بھون میں مبینہ طور پر بغیر اجازت داخل ہونے کے معاملے میں ایف آئی آر درج کی ہے۔ پولیس کے مطابق یہ کارروائی 6 اکتوبر کو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن کے احتجاج کے دوران پیش آنے والے واقعے کے سلسلے میں کی گئی ہے۔ ایف آئی آر میں دونوں رہنماؤں کے علاوہ دیگر افراد کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں۔ دراصل انڈیا اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ نے منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس سے الیکشن کمیشن کے دفتر کی جانب مارچ شروع کیا تھا۔ اپوزیشن رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے ملاقات اور انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے پر اپنی شکایات رکھنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ تاہم، دہلی پولیس نے انہیں الیکشن کمیشن کے دفتر سے پہلے ہی روک دیا۔
 
مارچ روکے جانے کے بعد راہل گاندھی، پرینکا گاندھی اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے آکاشوانی بھون کے احاطے میں دھرنا شروع کر دیا۔ پولیس نے مظاہرین سے احاطہ خالی کرنے کی اپیل کی، لیکن احتجاج جاری رہا۔ تقریباً نو گھنٹے تک جاری رہنے والے اس احتجاج کے بعد دہلی پولیس نے راہل گاندھی، پرینکا گاندھی اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔ بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا۔ پولیس کی جانب سے مظاہرین کو پہلے ہی بتایا گیا تھا کہ آکاشوانی بھون کے احاطے میں رات بھر احتجاج کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پولیس نے مظاہرین سے جگہ خالی کرنے کو کہا اور واضح کیا کہ ایسا نہ کرنے والوں کو حراست میں لیا جا سکتا ہے۔
 
پولیس کے مطابق بعد میں احتجاج ختم کرانے کے لیے کارروائی کی گئی۔ اسی واقعے سے متعلق آکاشوانی بھون کے عملے کی شکایت پر راہل گاندھی، پرینکا گاندھی اور دیگر افراد کے خلاف مبینہ طور پر زبردستی داخلے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ احتجاج کے دوران راہل گاندھی کا کہنا تھا کہ اپوزیشن رہنما الیکشن کمیشن سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں، لیکن انہیں کمیشن تک جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ اس پر الیکشن کمیشن نے وضاحت کی کہ 6 اکتوبر کو شام 4 بجے تک کسی سیاسی جماعت یا اس کے مجاز نمائندے کی جانب سے کمیشن سے ملاقات کے لیے باقاعدہ وقت نہیں مانگا گیا تھا۔ 
 
کمیشن کے مطابق تقریباً 4 بجے اسے دہلی پولیس کے ذریعے اطلاع ملی کہ راہل گاندھی کی قیادت میں تقریباً 240 ارکان پارلیمنٹ کا وفد ملاقات کرنا چاہتا ہے۔ لیکن الیکشن کمیشن نے کہا شام 4 بجے تک کسی سیاسی جماعت یا اس کے نمائندے کی جانب سے کمیشن سے ملاقات کے لیے کوئی وقت نہیں مانگا گیا۔ یوں آکاشوانی بھون کا واقعہ اپوزیشن کے احتجاج اور الیکشن کمیشن کے درمیان جاری تنازع میں ایک نیا موڑ بن گیا ہے، جبکہ ایف آئی آر کے بعد معاملہ اب قانونی کارروائی کے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔