7 اکتوبر 2023 کو شروع ہوئے اسرائیلی حملوں کو 3 سال مکمل ہو چکے ہیں۔ تین سالوں سے جاری اس بے رحمانہ جارحیت اور مبینہ نسل کشی کے نتیجے میں غزہ کی پٹی دنیا کے بدترین انسانی المیے اور تباہی کا منظر پیش کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ اور فلسطینی وزارتِ صحت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، تباہی و بربادی کی ہولناک تفصیلات درج ذیل ہیں:
1۔ جانی نقصانات اور انسانی المیہ
• مجموعی شہداء: غزہ میں اب تک 74,200 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جو کہ غزہ کی جنگ سے پہلے کی کل آبادی کا تقریباً 3.4 فیصد بنتا ہے۔
• بچے اور خواتین: شہداء میں 21,600 سے زائد معصوم بچے اور ہزاروں خواتین شامل ہیں۔ جنگ کے نتیجے میں 62 ہزار سے زائد بچے یتیم ہو چکے ہیں۔
• ملبے تلے لاپتہ: اندازے کے مطابق 8,000 سے زائد افراد اب بھی تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جنہیں مردہ تصور کیا جا رہا ہے۔
• مجموعی زخمی: اب تک 1 لاکھ 75 ہزار سے زائد فلسطینی زخمی ہو چکے ہیں، جن میں 11,000 سے زائد ایسے بچے شامل ہیں جن کے اعضاء (ٹانگیں یا ہاتھ) کاٹنے پڑے۔
• شعبہ ہائے زندگی کے نقصانات: اسرائیل کے ہاتھوں 2,300 سے زائد طبی و امدادی کارکنان، 263 صحافی اور 20 ہزار سے زائد طلبہ و اساتذہ شہید ہوئے ہیں۔
2۔ بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور رہائش کی تباہی
• بے گھر آبادی: غزہ کی 90 فیصد آبادی یعنی 19 لاکھ کے قریب فلسطینی اپنے گھروں سے محروم ہو کر بار بار نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
• رہائشی مکانات کی تباہی: اسرائیلی فوج نے غزہ کے 92 فیصد سے زائد گھروں کو نقصان پہنچایا یا مکمل تباہ کر دیا ہے۔ مجموعی طور پر تقریباً 1 لاکھ 34 ہزار سے زائد عمارات مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں۔
• خیموں کی حالتِ زار: لگ بھگ دو تہائی خاندان عارضی خیموں میں زندگی گزار رہے ہیں، جن میں سے 1 لاکھ 62 ہزار خیمے سردی اور بارش کے سامنے بالکل ناکارہ ہو چکے ہیں۔
3۔ انفراسٹرکچر اور صحت کے نظام کی بربادی
• صحت کا نظام: غزہ کے 38 ہسپتالوں میں سے صرف 19 ہسپتال جزوی طور پر کام کر رہے ہیں۔ ادویات کی 50 فیصد اور لیبارٹری کے سامان کی 85 فیصد شدید ترین قلت ہے۔
• پانی اور نکاسیِ آب: غزہ کا 90 فیصد پانی اور سینیٹیشن کا نظام تباہ کیا جا چکا ہے، جس کی وجہ سے پینے کے صاف پانی کی نایابی ہے اور متعدد بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔
• ملبے کے پہاڑ: غزہ کی پٹی میں 68 ملین میٹرک ٹن سے زیادہ ملبہ جمع ہو چکا ہے، جسے ہٹانے کے لیے ہی صرف 1.7 ارب ڈالرز درکار ہیں۔
•2 لاکھ 27 ہزار 703عمارتوں اور 5 لاکھ 10 ہزار رہائشی یونٹس کو نقصان پہنچا ہے۔ ان میں سے 3 لاکھ 35 ہزار عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں جبکہ 75 ہزار ناقابلِ رہائش ہیں۔ ایک لاکھ رہائشی یونٹس جزوی طور پر تباہ ہوئے ہیں لیکن وہ قابلِ رہائش ہیں۔
4۔ معاشی تباہی اور قحط کی صورتحال
• کاروبار اور روزگار: غزہ کے 92 فیصد کاروبار تباہ ہو چکے ہیں اور صنعتی و زرعی پیداوار میں 94 فیصد تک تاریخی کمی واقع ہوئی ہے۔
• انسانی ترقی کا زوال: اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اس تباہی نے غزہ کے Human Development Index (انسانی ترقی کے انڈیکس) کو 77 سال پیچھے دھکیل دیا ہے۔
• قحط اور بھوک: غزہ دنیا کی بدترین معاشی اور غذائی قلت کا شکار ہے، جہاں مناسب خوراک نہ ملنے اور ادویات کی کمی کی وجہ سے سینکڑوں بچے اور نوزائیدہ بنیادی غذائیت کی کمی کے باعث دم توڑ چکے ہیں۔ عالمی اداروں اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشنز کے مطابق، غزہ میں ہونے والی یہ تباہی جدید تاریخ کی سفاک ترین کارروائیوں میں سے ایک ہے جہاں عام شہریوں، بچوں اور بنیادی شہری انفراسٹرکچر کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا گیا ہے
5۔ تعلیم کا شعبہ
•97فیصد اسکولوں کو نقصان :غزہ میں بمباری کے نتیجے میں 97 فیصد اسکولوں کو نقصان پہنچا ہے اور 87 فیصد عمارتوں کو وسیع پیمانے پر بحالی کی ضرورت ہے۔ 80 فیصد اسکولوں پر براہِ راست بمباری کی گئی اور اعلیٰ تعلیم کے 17 اداروں کو بھی مکمل یا جزوی طور پر تباہ کیا گیا ہے۔
•اساتذہ اور طلبا کا جانی نقصان:اساتذہ اور طلبا کو بھی بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے اور 22 ہزار سے زائد طلبا، 1100 سے زائد اساتذہ اور 194 سے زائد ماہرینِ تعلیم و سائنسدان شہید ہو چکے ہیں۔
•7لاکھ سے زائد طلبا تعلیم سے محروم: اسکول جانے والے 6 لاکھ 50 ہزار اور جامعات کے 90 ہزار سے زائد طلبا تعلیم سے مکمل طور پر محروم ہو چکے ہیں۔
6۔ بھوک، امداد پر پابندیاں اور انسانی المیہ
لاکھوں امدادی ٹرکوں پر پابندی :اسرائیل نے 5 لاکھ سے زائد امدادی اور ایندھن کے ٹرکوں کا غزہ میں داخلہ روک کر فاقہ کشی کی پالیسی کو فروغ دیا۔ اس پالیسی کے تحت 48 لنگر خانوں، 64 امدادی مراکز اور امدادی قافلوں پر 128 مرتبہ حملے کیے گئے جن میں 556 امدادی کارکن شہید ہوئے۔
7۔عبادت گاہوں، قبرستان اور لاشوں کی بے حرمتی
• غزہ کی 1275 میں سے 1076 مساجد کو مکمل طور پر شہید کردیا گیا ہے جبکہ 166 کو جزوی نقصان پہنچایا گیا جبکہ 3 گرجا گھروں کو بھی متعدد بار نشانہ بنایا گیا۔
• 330 آئمہ کرام اور خطبا شہید ہوئے جبکہ 38 لاپتا یا گرفتار ہیں۔
• قبرستانوں کو نقصان لاشوں کی چوری:غزہ کے کل 60 میں سے 40 قبرستانوں کو تباہ کر دیا گیا اور اسرائیلی فورسز نے 2450 سے زائد شہدا کی لاشیں چوری کیں۔ اسپتالوں کے اندر قابض فورسز کی جانب سے بنائی گئی 7 اجتماعی قبریں بھی دریافت ہوئیں جن سے 1850 شہدا کی لاشیں نکالی گئیں۔






