Thursday, October 08, 2026 | 25 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • سائبیریا میں پراسرار موت پر امریکہ کی نظر، ٹرمپ پیوتن سے کریں گے بات

سائبیریا میں پراسرار موت پر امریکہ کی نظر، ٹرمپ پیوتن سے کریں گے بات

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 07 Oct 2026

سائبیریا میں پراسرار موت پر امریکہ کی نظر، ٹرمپ پیوتن سے کریں گے بات
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ سائبیریا میں ممکنہ طاعون کے معاملے پر روسی صدر ولادیمیر پیوتن کے ساتھ ان کی ٹیلی فونک گفتگو طے ہے۔ ٹرمپ کے مطابق وہ اس معاملے پر پیوتن سے بہت جلد بات کریں گے اور امریکا صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب روس کے سائبیریا خطے میں ایک اینٹی پلَیگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ 28 سالہ خاتون ملازمہ کی موت ہوگئی۔ روسی حکام کے مطابق خاتون کو نامعلوم وجہ سے ہونے والے نمونیا کی تشخیص ہوئی تھی۔ تاہم، اب تک اس بات کی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی کہ موت طاعون کے باعث ہوئی۔ روسی صحت حکام کا کہنا ہے کہ مریضہ کے نمونوں کی جانچ میں اس کے پیشہ ورانہ کام سے متعلق کسی جرثومے کے شواہد نہیں ملے۔
 
احتیاطی اقدامات کے طور پر روسی حکام نے متاثرہ علاقے میں رابطے میں آنے والے افراد کی نگرانی شروع کی اور متعدد افراد کو طبی نگرانی میں رکھا گیا۔ عالمی ادارۂ صحت نے بھی معاملے پر نظر رکھنے کی بات کہی ہے، تاہم موجودہ معلومات کی بنیاد پر عام آبادی کے لیے عالمی سطح پر خطرہ بہت کم قرار دیا گیا ہے۔ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ امریکی حکام اس معاملے پر روس کے ساتھ تفصیلی رابطے میں ہیں۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ امریکا کو مزید معلومات جلد حاصل ہو سکتی ہیں اور ممکنہ طور پر اگلے روز صورتحال کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے رکھی جائیں گی۔ امریکی حکام نے بھی روس سے معاملے کی مکمل معلومات اور شفاف تفصیلات فراہم کرنے پر زور دیا ہے۔ اس وقت اصل توجہ اس بات پر ہے کہ بیماری کی وجہ کیا تھی اور آیا اس کا طاعون کے جرثومے سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔
 
 
وہیں دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران امریکی بحریہ کی کارروائیوں کی تعریف کی ہے۔ ٹرمپ نے امریکی فوج کی جانب سے ایرانی قیادت کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں اور بحری سرگرمیوں کو نمایاں قرار دیا۔ ٹرمپ کے مطابق امریکی بحریہ نے ایرانی بندرگاہوں اور آبنائے ہرمز کے اطراف سخت بحری ناکہ بندی نافذ کر رکھی ہے۔ ان کے دعوے کے مطابق اس کارروائی کے دوران متعدد تجارتی اور فوجی جہازوں کا رخ موڑا گیا یا انہیں ناکارہ بنایا گیا ہے۔
 
ٹرمپ نے امریکی بحریہ کی کارروائیوں کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کی صورتحال خاص اہمیت اختیار کر گئی ہے، کیونکہ یہ عالمی توانائی کی تجارت کے لیے ایک اہم سمندری راستہ ہے۔ اسی دوران ٹرمپ نے میری لینڈ میں نئے شپ یارڈ منصوبے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی ٹیکس دہندگان کو نئے شپ یارڈ میں 40 فیصد حصہ ملے گا۔ رپورٹوں کے مطابق یہ منصوبہ تقریباً 6.6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے متعلق ہے، جس میں امریکی بحریہ کی فنڈنگ اور نجی سرمایہ کاری شامل ہے۔ تاہم، ٹرمپ کے بتائے گئے 40 فیصد حصے کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔