خواتین میں ہارمونز کے عدم توازن سے متعلق مسائل تیزی سے توجہ کا مرکز بن رہے ہیں۔ ان میں پی سی او ڈی (PCOD) ایک عام مسئلہ ہے، جو خواتین کی ماہواری، جلد، وزن اور تولیدی صحت کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس کی علامات کو بروقت پہچاننا اور مناسب طبی رہنمائی حاصل کرنا نہ صرف بیماری کو سنبھالنے میں مدد دیتا ہے بلکہ مستقبل میں پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے خطرے کو بھی کم کر سکتا ہے۔منصف ٹی وی کے خصوصی پروگرام ’ہیلتھ اور ہم‘ میں پی سی او ڈی سے متعلق طبی معلومات، ہارمونز میں عدم توازن، ماہواری کی بے قاعدگی اور بروقت علاج کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
اسی اہم موضوع پر منصف ٹی وی کے خصوصی پروگرام ’ہیلتھ اور ہم‘ میں تفصیلی گفتگو کی گئی۔ پروگرام کا موضوع ’’پی سی او ڈی: علامات، وجوہات اور علاج‘‘ تھا۔ اس موقع پر ڈاکٹر ہیرن ایس ریڈی، کنسلٹنٹ فزیشن، ماہر ذیابیطس اور کریٹیکل کیئر اسپیشلسٹ، ڈاکٹر ہیرن ڈائیبیٹک، تھائیرائڈ اینڈ جنرل کلینک، نلّاکنٹہ مین روڈ، فیور ہاسپٹل ایکس روڈ، حیدرآباد نے اس مسئلے کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
کیا ہے پی سی او ڈی؟
پی سی او ڈی خواتین میں بیضہ دانی (اووری) سے متعلق ایک ہارمونل کیفیت ہے۔ اس میں ہارمونز کے توازن میں تبدیلی کے باعث بیضہ بننے یا خارج ہونے کے معمول کے عمل میں خلل پڑ سکتا ہے۔ طبی گفتگو میں پی سی او ڈی کے ساتھ پی سی او ایس (PCOS) کا ذکر بھی کیا جاتا ہے، تاہم دونوں اصطلاحات کو ہر صورت میں ایک دوسرے کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ پی سی او ایس ایک تسلیم شدہ ہارمونل اور میٹابولک عارضہ ہے، جس کی تشخیص مخصوص علامات اور طبی جانچ کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔
کن علامات پر توجہ دینی چاہیے؟
ماہواری کا بے قاعدہ ہونا، کئی ماہ تک ماہواری نہ آنا، چہرے یا جسم پر غیر معمولی بالوں کی افزائش، کیل مہاسے، سر کے بالوں کا پتلا ہونا اور وزن میں اضافہ اس مسئلے سے وابستہ ممکنہ علامات ہیں۔ بعض خواتین میں انسولین کے خلاف مزاحمت بھی پائی جاتی ہے، جس سے مستقبل میں ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔یہ ضروری نہیں کہ ہر خاتون میں تمام علامات موجود ہوں۔ اسی لیے صرف ایک علامت کی بنیاد پر خود تشخیص کرنے کے بجائے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔
وجوہات اور علاج کیا ہیں؟
پی سی او ایس کی درست وجہ پوری طرح واضح نہیں، تاہم جینیاتی عوامل، ہارمونز میں تبدیلی اور انسولین کے خلاف مزاحمت اس کے اہم پہلوؤں میں شامل ہیں۔ مناسب غذا، باقاعدہ جسمانی سرگرمی، وزن کو صحت مند حد میں برقرار رکھنے اور نیند کے معمولات بہتر بنانے سے کئی خواتین کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ علاج کا انحصار علامات اور ہر خاتون کی ضروریات پر ہوتا ہے۔ ڈاکٹر ماہواری کو باقاعدہ کرنے، جلد سے متعلق مسائل کم کرنے یا انسولین کی مزاحمت کو سنبھالنے کے لیے مناسب ادویات تجویز کر سکتے ہیں۔ اگر حمل ٹھہرنے میں دشواری ہو تو اس کے لیے بھی مخصوص علاج دستیاب ہیں۔
بروقت تشخیص کیوں ضروری ہے؟
ماہواری میں مسلسل بے قاعدگی یا دیگر متعلقہ علامات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر کے مشورے سے ضروری خون کے ٹیسٹ، ہارمونز کی جانچ اور الٹراساؤنڈ کیا جا سکتا ہے۔ ہر مریضہ کے لیے تمام ٹیسٹ ضروری نہیں ہوتے؛ تشخیص علامات اور طبی معائنے کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔منصف ٹی وی کے پروگرام ’ہیلتھ اور ہم‘ کا مقصد صحت سے متعلق اہم مسائل پر مستند معلومات فراہم کرنا اور عوام میں شعور بیدار کرنا ہے، تاکہ خواتین اپنی صحت کے بارے میں بہتر فیصلے کر سکیں اور ضرورت پڑنے پر بروقت طبی مدد حاصل کریں۔
ماہرین کے مطابق پی سی او ڈی یا پی سی او ایس کو مناسب طبی رہنمائی اور طرزِ زندگی میں ضروری تبدیلیوں کے ذریعے بہتر طور پر سنبھالا جا سکتا ہے۔ علامات کو چھپانے یا نظر انداز کرنے کے بجائے ان کی اصل وجہ معلوم کرنا ہی بہتر صحت کی جانب پہلا قدم ہے۔
قارئین آپ ڈاکٹر ہیرن ایس ریڈی، کنسلٹنٹ فزیشن، ماہر ذیابیطس اور کریٹیکل کیئر اسپیشلسٹ،حیدرآباد،کی مکمل گفتگو👇یہاں دیکھ سکتےہیں۔ ساتھ ہی منصف ٹی وی ہیلتھ پر صحت سے متعلق ہزاروں ویڈیوز بھی دیکھ سکتےہیں۔






