جموں و کشمیر کی کشتواڑ پولیس نے لاپتہ اسپیشل پولیس آفیسر (ایس پی او) بشیر احمد کے قتل کا معاملہ حل کرلیا ہے اور پولیس نے اس سلسلہ میں دو ملزمین کو گرفتار کرلیا ہے۔ ایس پی او بشیر احمد 15 اکتوبر کو ایک پولیس چوکی سے اپنی سروس رائفل سمیت لاپتہ ہو گیا تھے۔جب وہ واپس نہ آئے تو ان کیاہلیہ ان کا ٹھکانہ پوچھنے کے لیے چوکی پر گئیں، وہ موجود افراد نے صرف اتنا بتایا گیا کہ بشیر احمد گھر کے لیے روانہ ہو چکے ہیں ۔
محکمہ کے اعلیٰ حکام کو اطلاع دی گئی جس کے بعد تلاشی مہم چلائی گئی۔ کشتواڑ پولیس نے متعدد ٹیمیں تشکیل دیں اور پہلے لاپتہ پولیس اہلکار کا سروس ہتھیار برآمد کیا، اور بعد میں اگلے دن تریگام جنگل کے سیران وانی علاقے میں ایک نالے میں کھودے گئے گڑھے سے اس کی لاش برآمد ہوئی۔ پولیس کا کہنا تھا کہ جرم کو چھپانے کے لیے لاش کو وہیں دفن کیا گیا تھا۔
مزید تفتیش کے دوران، پولیس نے دو مشتبہ افراد - بشیر احمد ڈار ولد عبدالعزیز ڈار اور نذیر احمد ڈار ولد بشیر احمد ڈار جو کہ سیران وانی، تریگام کے رہنے والے تھے، کو حراست میں لیا گیا ۔ ایک سینئر تفتیشی افسر نے بتایا، "مسلسل پوچھ گچھ پر، دونوں نے جرم کا اعتراف کیا اور قتل کے پیچھے سازش اور مقصد کا انکشاف کیا۔"
پولیس نے بتایا کہ ملزمین کے قبضے سے اسلحہ اور سامان برآمد کر لیا گیا ہے۔ بھارتیہ نیا سنہتا (بی این ایس) کی دفعہ 103 (1) کے تحت قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔
سی آر پی ایف جوان کی خودکشی
جموں و کشمیر کے ضلع گاندربل میں سی آر پی ایف (CRPF) کے ایک جوان نے خودکشی کر لی۔ حکام نے بتایا کہ اتوار کے روز جموں و کشمیر کے ضلع گاندربل کے علاقے مانسبل میں، سینٹرل ریزرو پولیس فورس (CRPF) کے ایک کیمپ کے اندر، فورس کے ایک جوان نے مبینہ طور پر خودکشی کر لی۔ حکام کے مطابق، کانسٹیبل رنجیت داس نے مانسبل میں واقع سی آر پی ایف کیمپ کے اندر نائلون کی رسی سے پھانسی لگا کر مبینہ طور پر اپنی جان دے دی۔
انہوں نے بتایا کہ داس کا تعلق آسام کے ضلع کامروپ کی تحصیل ہاجو سے تھا، اور لاش کو قانونی و طبی کارروائی (میڈیکو لیگل فارمیلٹیز) کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ داس نے یہ انتہائی قدم کیوں اٹھایا۔






