اسرائیل کے سابق دفاعی سربراہ اور یاشر پارٹی کے قائدگاڈی آئزن کوٹ نے کنیسٹ میں حکومت سازی کے لیے درکار پارلیمانی حد عبور کرلی ہے( یعنی اقتدار حاصل کرنے کےلئے درکار جادوئی عدد حاصل کر لیا ہے)، جب کہ وزیر اعظم بنجامن نیتن یا ہو کی روایتی دائیں بازو کی برتری واضح طور پر کمزور پڑ گئی ہے۔
گاڈی آئزن کوٹ کو 67 نشستوں کی تائید
پوسٹ الیکشن مشاورت کے بعد صدر اسحاق ہرزوگ کو دی گئی سفارشات کے مطابق آیزنکوٹ کو مجموعی طور پر 67 نشستوں کی تائید ملی ہے، جو 120 رکنی کنیسٹ میں حکومت بنانے کے مینڈیٹ کے لیے درکار 61 کی اکثریت سے زیادہ ہے، جب کہ نیتن یاہو کو صرف 46 نشستوں کی سفارشات حاصل ہو سکی ہیں۔ یہ اعداد و شمار ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ میں سامنے آئے ہیں۔
عرب جماعتوں کی حمایت
یہ برتری اس وقت قائم ہوئی جب عرب قیادت میں قائم جوائنٹ لسٹ نے متفقہ طور پر آیزنکوٹ کی سفارش کرنے کا اعلان کیا اور یوں اپوزیشن جماعتوں اور عرب جماعت رع‘ام کی پہلے سے موجود حمایت کے ساتھ مجموعہ 67 تک پہنچ گیا۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق آیزنکوٹ کے حق میں 48 نشستیں یہودی قیادت میں اپوزیشن بلاک (یاشر، ٹوگیدر، دی ڈیموکریٹس، یسرائیل بیتینو) سے، 8 رع‘ام پارٹی سے اور 11 جوائنٹ لسٹ سے آئی ہیں۔ اس کے برعکس نیتن یاہو کے دائیں بازو کے بلاک کی انتخابی گنتی 53 بتائی گئی تھی، مگر یونائیٹڈ توراہ جوڈائزم (یوٹی جے) کی غیر جانب داری کے بعد ان کی موثر سفارشات 46 رہ گئیں۔
یوٹی جے نے کسی کی تائید نہیں کی
یوٹی جے کے اس فیصلے نے نیتن یاہو کے ساتھ اس کی طویل سیاسی رفاقت میں دراڑ نمایاں کر دی ہے۔ پارٹی کی دونوں اکائیوں، ڈیگَل ہتوراہ اور اگودت یسرائیل، کو اپنے روحانی قائدین کی جانب سے ہدایت ملی کہ کسی امیدوار کی تائید نہ کی جائے۔ پس منظر میں یہ ناراضی اس وجہ سے بتائی گئی کہ یشیوا طلبہ کے لیے فوجی خدمت سے چھوٹ کے وعدہ شدہ قانون سازی نیتن یاہو کی حکومت کے دوران پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکی۔ یوٹی جے کے نمائندگان نے صدر ہرزوگ کو واضح کیا کہ ان کی آئندہ کسی بھی انتظامیہ کو حمایت اسی وقت ممکن ہوگی جب یہ چھوٹ قانونی شکل اختیار کرے گی۔
مجوزہ حکومت کا حصہ نہیں بنیں گے
جوائنٹ لسٹ نے اپنی حمایت کی وجہ یہ بیان کی کہ عوامی دباؤ ہے کہ نیتن یاہو اور ان کی حکومت کی واپسی روکی جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے دو ٹوک کہا کہ یہ حمایت اصولی اختلافات کے باوجود ہے، وہ آیزنکوٹ کی مجوزہ حکومت کا باقاعدہ حصہ نہیں بنیں گے بلکہ ممکنہ طور پر باہر سے تائید فراہم کریں گے۔ ان کا موقف تھا کہ سفارشات میں فرق بڑھانا حکومت کی تبدیلی کے امکانات مضبوط کرے گا اور اس امر کے امکان کو کم کرے گا کہ کوئی ایسی مشترکہ حکومت بنے جس میں نیتن یاہو برسرِ اقتدار رہیں۔ جوائنٹ لسٹ کا ایک وفد جمعرات کی دوپہر صدر ہرزوگ کے سامنے اپنی سفارشات باضابطہ طور پر پیش کرے گا۔
مینڈیٹ مل جانا کابینہ کے قیام کی خودکار ضمانت نہیں
اگرچہ 67 سفارشات گاڈی آئزن کوٹ کو حسابی طور پر واضح سبقت دیتی ہیں، لیکن ماہرین یاد دلاتے ہیں کہ مینڈیٹ مل جانا کابینہ کے قیام کی خودکار ضمانت نہیں۔ سفارشات اس امر کی علامت ہیں کہ کن جماعتوں نے کس کو نامزد کیا ہے، مگر یہ لازماً اس بات پر منتج نہیں ہوتیں کہ وہ جماعتیں حکومت میں شامل بھی ہوں گی۔ صدر اسحاق ہرزوگ مشاورت کے اختتام پر توقع ہے کہ آیزنکوٹ کو حکومت بنانے کی پہلی کوشش کا باضابطہ ٹاسک دیں گے۔ اسی دوران شاس کی حکمران کونسلِ حکمائے توراہ کے سینئر رکن، ربی موشے مایا نے اصرار کیا کہ قومی وحدت کی حکومت ہی واحد حل ہے۔






