نئی دہلی میں 2020 کے دہلی فسادات سے منسلک مبینہ بڑی سازش کے کیس میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق اسکالر عمر خالد اور طالب علم کارکن شرجیل امام نے سپریم کورٹ سے ضمانت کی درخواست دائر کر دی ہے۔ یہ پیش رفت بدھ کو اس وقت ہوئی جب دونوں نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت عظمیٰ کی جانب سے 5 جنوری کو لگایا گیا ایک سالہ توقف اپنی مدت پوری کرنے کے قریب ہے، جبکہ استغاثہ کے محفوظ گواہوں کے بیانات اس مدت میں مکمل ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
درخواستوں میں اس مشاہدے پر انحصار کیا گیا ہے جو عدالت نے اسی کیس میں ضمانت سے انکار کرتے ہوئے کیا تھا، مگر ساتھ ہی یہ اجازت دی تھی کہ محفوظ گواہوں کے بیانات مکمل ہونے یا ایک سال کی مدت ختم ہونے پر، جو بھی پہلے ہو، ملزم اپنی ضمانت کی عرضی دوبارہ پیش کر سکتے ہیں۔
عدالت نے 5 جنوری کے حکم میں کہا تھا کہ جب استغاثہ کے محفوظ گواہوں کے بیانات مکمل ہو جائیں، یا اس تاریخ سے ایک سال گزر جائے، تو عمر خالد اور شرجیل امام متعلقہ عدالت میں ضمانت کی درخواست نئے سرے سے دے سکتے ہیں۔ اسی دوران اس بنچ نے کیس کے دیگر پانچ ملزمان کو ضمانت دی تھی، مگر خالد اور امام کے کردار کو “معیاری طور پر مختلف” قرار دیتے ہوئے ان کا معاملہ الگ رکھ دیا گیا تھا۔
بعد ازاں دونوں نے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا، جہاں 30 ستمبر کو ان کی ضمانت عرضیاں صرف اس بنیاد پر مسترد کر دی گئیں کہ سپریم کورٹ کے ایک سالہ توقف کو تبدیل کرنا ہائی کورٹ کے دائرۂ اختیار میں نہیں۔ جسٹس پرتھیبھا ایم سنگھ اور جسٹس دنیش بھٹ کی بنچ نے واضح کیا کہ وہ اوپر کی عدالت کے حکم میں ترمیم نہیں کر سکتیں۔
اب خالد اور امام نے سپریم کورٹ میں چیلنج دائر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تقریباً 6 برس سے حراست میں ہیں جبکہ استغاثہ نے درج شدہ 900 سے زائد گواہوں میں سے ایک بھی گواہ کا بیان ریکارڈ نہیں کیا۔ استغاثہ کے مطابق 47 محفوظ گواہ ہیں۔ عمر خالد نے اپنی درخواست وکیل این سائی وینود کے ذریعے دائر کی ہے، جبکہ شرجیل امام نے وکیل فوزیہ شکیل کے توسط سے عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا ہے۔
دونوں نے بتایا کہ معاملہ اس وقت فرد جرم کے دلائل کے مرحلے میں رکا ہوا ہے۔ ان کے مطابق فرد جرم پر دلائل 13 جولائی کو مکمل ہو چکے تھے، مگر ٹرائل آگے نہیں بڑھا کیونکہ ٹرائل جج ایک شریک ملزم کی ان دستاویزات کے معائنہ سے متعلق درخواست پر سپریم کورٹ کے متوقع فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں جن پر استغاثہ نے انحصار نہیں کیا۔ اس متعلقہ مقدمے میں 1 ستمبر کو فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا۔






