Monday, September 21, 2026 | 07 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • حامد انصاری کے بیان پر سیاسی تنازع، بی جے پی اور یوگی آدتیہ ناتھ کا ردعمل

حامد انصاری کے بیان پر سیاسی تنازع، بی جے پی اور یوگی آدتیہ ناتھ کا ردعمل

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 21 Sept 2026

حامد انصاری کے بیان پر سیاسی تنازع، بی جے پی اور یوگی آدتیہ ناتھ کا ردعمل
سابق نائب صدرِ جمہوریہ محمد حامد انصاری کے ایک حالیہ بیان پر ملک میں سیاسی بحث شروع ہوگئی ہے۔ بی جے پی اور دیگر سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے ان کے بیان پر اعتراضات سامنے آئے ہیں۔ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی حامد انصاری کے ریمارکس کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے ان پر تنقید کی ہے۔
 
حامد انصاری نے نئی دہلی میں منعقدہ اے جی نورانی میموریل لیکچر سے خطاب کیا۔ یہ پروگرام معروف قانون دان، آئینی ماہر اور مصنف اے جی نورانی کی یاد میں منعقد کیا گیا تھا۔ انصاری نے نورانی کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے انہیں اپنے شعبے کی ایک اہم شخصیت قرار دیا۔ اپنی تقریر کے دوران حامد انصاری نے اے جی نورانی کی 2019 میں شائع ہونے والی کتاب The RSS: A Menace to India کا حوالہ دیا۔ اسی تناظر میں انہوں نے سابق وزیر اعظم جواہر لال نہرو سے منسوب ایک پرانے بیان کا ذکر کیا۔ ا
 
حامد انصاری کے مطابق، نہرو نے ایک موقع پر کہا تھا کہ ہندوستان کے لیے اصل خطرہ کمیونزم سے نہیں بلکہ ہندو دائیں بازو کی فرقہ واریت سے ہے۔ یہ حوالہ نورانی کی کتاب میں درج مواد اور سابق خارجہ سکریٹری جگت سنگھ گنڈےویا کی دستاویز سے منسوب کیا گیا ہے۔حامد انصاری نے اپنی تقریر میں سِوک نیشنلزم اور کلچرل نیشنلزم کے درمیان فرق کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں ایسے رجحانات سامنے آئے ہیں جو ان کے مطابق شہری قوم پرستی کے بجائے ثقافتی قوم پرستی کو اہمیت دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے رجحانات پر قانونی اور سیاسی سطح پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
 
حامد انصاری کے بیان کے بعد بی جے پی کی جانب سے بھی تنقید سامنے آئی۔ پارٹی کے ایک یونٹ نے ان کے بیان کو کانگریس کی مبینہ سیاسی سوچ سے جوڑتے ہوئے اعتراض کیا۔ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے گریٹر نوئیڈا میں ایک پروگرام کے دوران حامد انصاری کے بیان کو افسوسناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سابق آئینی عہدے پر فائز شخص سے آئینی عہدے کی وقار کے مطابق رویے کی توقع کی جاتی ہے۔ یوگی نے انصاری کے بیان کو ہندوستانی ثقافت اور سناتن روایت کے حوالے سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ یوں حامد انصاری کی تقریر میں کیے گئے تاریخی حوالوں اور قوم پرستی سے متعلق ان کے تبصروں نے ایک نئی سیاسی بحث کو جنم دیا ہے، جس میں مختلف سیاسی اور سماجی حلقے اپنے اپنے مؤقف پیش کر رہے ہیں۔