Monday, September 21, 2026 | 07 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • جموں وکشمیر
  • »
  • جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس شروع ہوتے ہی ہنگامہ، بی جے پی کا احتجاج

جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس شروع ہوتے ہی ہنگامہ، بی جے پی کا احتجاج

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 21 Sept 2026

جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس شروع ہوتے ہی ہنگامہ، بی جے پی کا احتجاج
جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا خزاں اجلاس شروع ہوتے ہی ایوان میں زبردست ہنگامہ برپا ہوگیا۔ اجلاس کے پہلے ہی دن بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اراکین اسمبلی نے بجلی کے نرخوں میں اضافے سمیت مختلف مسائل پر حکومت کے خلاف احتجاج کیا۔ بی جے پی اراکین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا کر نعرے بازی کی اور بجلی کے نرخوں میں حالیہ اضافے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ سری نگر میں شروع ہونے والا اسمبلی کا یہ اجلاس 30 ستمبر تک جاری رہے گا، جس کے دوران مجموعی طور پر سات نشستیں منعقد ہوں گی۔
 
اجلاس کی ابتدائی کارروائی میں مرحومین کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے تعزیتی ریفرنسز ہوئے۔ اس کے فوراً بعد بی جے پی کے اراکین اپنی نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور پلے کارڈز لہراتے ہوئے مختلف مطالبات کے حق میں نعرے لگانے لگے۔ بی جے پی اراکین نے نیشنل ہیلتھ مشن (NHM) کے ملازمین کے مسائل حل کرنے، بجلی کے نرخوں میں اضافہ واپس لینے اور دیہاڑی دار ملازمین کو مستقل کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو NHM ملازمین کے دیرینہ مسائل پر فوری توجہ دینی چاہیے اور عارضی و دیہاڑی دار کارکنوں کے مستقبل کے حوالے سے واضح پالیسی بنانی چاہیے۔
 
احتجاج کے دوران بی جے پی کے کچھ اراکین ایوان کے وسطی حصے، یعنی ویل آف دی ہاؤس میں پہنچ گئے۔ اس کے بعد نعرے بازی اور احتجاج میں مزید شدت آگئی۔ بی جے پی اراکین نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے بجلی، روزگار اور بنیادی سہولتوں سے متعلق مسائل اٹھائے۔ بی جے پی پہلے ہی اشارہ دے چکی تھی کہ اسمبلی اجلاس کے دوران NHM، آشا اور آنگن واڑی کارکنوں، دیہاڑی دار ملازمین، بجلی کے نرخ، روزگار، آؤٹ سورسنگ اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق مسائل کو نمایاں طور پر اٹھایا جائے گا۔ احتجاج کے دوران بی جے پی اراکین نے حکومت کے خلاف مختلف نعرے لگائے۔ بعض اراکین نے حکومت کو نااہل قرار دیتے ہوئے بجلی اور پانی کی فراہمی سمیت بنیادی سہولتوں کا مسئلہ اٹھایا۔
 
اس دوران اسمبلی اسپیکر نے مداخلت کرتے ہوئے اراکین کو احتجاج ختم کرنے کی ہدایت دی۔ اسپیکر نے یہ بھی کہا کہ احتجاج سے متعلق بعض کارروائیوں کو سرکاری ریکارڈ کا حصہ نہ بنایا جائے اور ان کی رپورٹنگ بھی نہ کی جائے۔اسمبلی کے اس اجلاس کے دوران اپوزیشن کی جانب سے بے روزگاری، عارضی ملازمین کو مستقل کرنے، بجلی کے نرخ، آؤٹ سورسنگ، بنیادی ڈھانچے اور انتخابی وعدوں کی تکمیل جیسے معاملات اٹھائے جانے کا امکان ہے۔ اس طرح اجلاس کے پہلے ہی دن بجلی کے نرخوں اور ملازمین کے مسائل پر احتجاج کے ساتھ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی کشیدگی نمایاں ہوگئی ہے۔ آنے والے دنوں میں ان مسائل پر ایوان کے اندر مزید بحث اور ہنگامہ ہونے کا امکان ہے۔