Monday, September 21, 2026 | 07 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • مغربی بنگال ایس آئی آر: 37 لاکھ سے زائد اپیلیں زیر التوا، الیکشن کمیشن نے مزید ٹربیونلز کا کیا مطالبہ

مغربی بنگال ایس آئی آر: 37 لاکھ سے زائد اپیلیں زیر التوا، الیکشن کمیشن نے مزید ٹربیونلز کا کیا مطالبہ

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: | Last Updated: 21 Sept 2026

مغربی بنگال ایس آئی آر: 37 لاکھ سے زائد اپیلیں زیر التوا، الیکشن کمیشن نے مزید ٹربیونلز کا کیا مطالبہ
مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کے بعد ناموں کے اندراج اور اخراج سے متعلق لاکھوں اپیلیں اب بھی زیر التوا ہیں۔ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ 38.31 لاکھ اپیلیں دائر کی گئی ہیں، جن میں سے بڑی تعداد پر ابھی فیصلہ ہونا باقی ہے۔ کمیشن نے اپیلوں کے جلد از جلد نمٹارے کے لیے مزید اپیلیٹ ٹربیونلز قائم کرنے کی تجویز دی ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق 16 ستمبر تک 37 لاکھ سے زیادہ اپیلیں زیر التوا تھیں۔ کمیشن نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ موجودہ رفتار سے اگر اسی طرح مقدمات نمٹائے جاتے رہے تو تمام زیر التوا اپیلوں کے فیصلے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے کمیشن نے مغربی بنگال میں موجودہ 19 ٹربیونلز کی تعداد بڑھانے کی تجویز پیش کی ہے۔
 
تازہ اعداد و شمار کے مطابق SIR کے دوران انتخابی فہرست میں نام شامل کرنے یا ناموں کے اخراج سے متعلق مجموعی طور پر 38,31,000 سے زائد اپیلیں دائر کی گئی ہیں۔ ان میں تقریباً 22.21 لاکھ اپیلیں ایسے ووٹروں کی ہیں جن کے نام انتخابی فہرست سے خارج کیے گئے اور وہ دوبارہ اپنا نام شامل کروانا چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ تقریباً 16.10 لاکھ اپیلیں ایسے ناموں کے خلاف دائر کی گئی ہیں جو ووٹر لسٹ میں شامل کیے گئے ہیں اور جنہیں بعض درخواست گزار یا متعلقہ حکام خارج کروانا چاہتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اس طرح ٹربیونلز کے سامنے صرف ناموں کی بحالی ہی نہیں بلکہ ناموں کے اخراج سے متعلق معاملات بھی بڑی تعداد میں زیر سماعت ہیں۔
 
سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے مغربی بنگال میں 19 اپیلیٹ ٹربیونلز قائم کیے تھے۔ ان ٹربیونلز نے اپریل 2026 میں کام شروع کیا تھا اور اب تک ایک لاکھ سے زیادہ اپیلوں کا فیصلہ کیا جا چکا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق 16 ستمبر تک 1,02,231 اپیلیں نمٹائی گئی تھیں، جبکہ 37,18,452 اپیلیں زیر التوا تھیں۔ اس سے پہلے بھی ٹربیونلز کے فیصلوں میں بڑی تعداد میں ووٹرز کے نام دوبارہ انتخابی فہرست میں شامل کیے گئے۔ اگست تک دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 82,782 نمٹائی گئی اپیلوں میں سے تقریباً 91 فیصد معاملات میں نام دوبارہ شامل کیے گئے تھے۔
 
اپیلوں کے بڑے بیک لاگ کو دیکھتے ہوئے الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ مغربی بنگال کے 42 لوک سبھا حلقوں کی تعداد کے مطابق اپیلیٹ ٹربیونلز قائم کرنے پر غور کیا جائے۔ کمیشن کے مطابق ٹربیونلز کی تعداد بڑھنے سے زیر التوا معاملات کے فیصلوں میں تیزی لائی جا سکتی ہے۔
الیکشن کمیشن نے SIR کے ذریعے ووٹر لسٹ سے ناموں کے اخراج اور حالیہ اسمبلی انتخابات کے نتائج کے درمیان تعلق کے دعووں کو بھی مسترد کیا ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ صرف خارج کیے گئے ناموں کی تعداد کا انتخابی جیت کے فرق سے موازنہ کرنا نتائج پر SIR کے اثرات ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ اب سپریم کورٹ کے سامنے اہم سوال یہ ہے کہ لاکھوں زیر التوا اپیلوں کو مقررہ مدت میں نمٹانے کے لیے کتنے مزید ٹربیونلز اور کیا اضافی انتظامات درکار ہوں گے۔