آندھرا پردیش کے کاکیناڈا ضلع میں جمعرات کو ایک تیز رفتار ایس یو وی کی ٹکر سے کم از کم چار بھوانی عقیدت مندوں کی موت ہوگئی، پولیس نے بتایا کہ پرتھی پاڈو حلقہ میں کاٹھی پوڈی کے قریب پیش آئےاس حادثے میں ایک اور عقیدت مند بھی زخمی ہوا۔پولیس کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب بس تکنیکی خرابی کی وجہ سے رک گئی تھی ۔ اسی دوران بس کے کچھ مسافر چائے پینے کے لیے سڑک عبور کر رہے تھے ۔بس، ضلع وجیا نگرم سے عقیدت مندوں کو لے کر وجئے واڑہ جا رہی تھی۔ وہ سری کانکا درگا مندر میں 'درشن' کے لیے وجئے واڑہ جا رہے تھے۔
چونکہ گاڑی کسی تکنیکی خرابی کی وجہ سے رک گئی تھی، چند عقیدت مند نیچے اترے اور قریبی چائے کے اسٹال پر چلے گئے۔ اسی دوران سریکاکولم ضلع کے ایچرلا سے آنے والی ایک تیز رفتار گاڑی نے عقیدت مندوں کو ٹکر مار دی۔ان میں سے تین کی موقع پر ہی موت ہو گئی، جبکہ ایک اور عقیدت مند زخمی ہو گیا۔ مرنے والوں کی شناخت سی یرریا (38)، ایل سیتارام (45)، ٹی شیو پرساد (40) اور بی آر ستی بابو (40) کے طور پر کی گئی ہے۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو مقامی اسپتال منتقل کیا۔ متوفی کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا۔
آندھراپردیش کے نائب وزیر اعلیٰ پون کلیان نے اس حادثے پر افسوس کا اظہار کیا ہے جس میں بھوانی کے چار عقیدت مندوں کی جان چلی گئی۔انہوں نے کہا کہ یہ دل دہلا دینے والی بات ہے کہ جو عقیدت مند اپنی منت پوری کر چکے تھے اور کنکا درگا کے درشن کے لیے جا رہے تھے وہ درمیان میں ہی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ انہوں نے مہلوکین کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
ڈپٹی چیف منسٹر نے کاکیناڈا ضلع کلکٹر سے فون پر بات کی اور واقعہ کے بارے میں تفصیلات اکٹھی کیں۔ضلع کلکٹر نے وضاحت کی کہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب پیچھے سے ایک گاڑی تیز رفتاری سے آئی، جس نے عقیدت مندوں کو ٹکر مار دی جب وہ سبھی بس سے نیچے اترے جو رویکمپڈو جنکشن کے قریب رکی تھی اور ایک قریبی ہوٹل کی طرف جارہےتھے۔
پون کلیان نے ہدایت دی کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور زخمیوں کو بہترین طبی علاج فراہم کیا جائے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ مخلوط حکومت مرنے والوں کے اہل خانہ کو ہر طرح کی مدد فراہم کرے گی۔






