مدھیہ پردیش کے قدیم شہر اجین میں ہفتہ کی رات ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا ۔اس حادثہ میں ہوٹل شری گنگا کے ویسٹج ٹینک کی صفائی کے دوران زہریلی گیس کے اثر سے 4 افراد ہلاک اور 1 کی حالت نازک ہے۔ واقعہ شہر کے ایک پرانے ہوٹل کے احاطے میں اس وقت پیش آیا جب چیمبر میں اترنے والے صفائی کرمچاریاں اور ہوٹل کے عملے کے ارکان بیک وقت بے ہوش ہوگئے۔ ابتدائی اطلاع کے مطابق متوفیوں میں ہوٹل کے 2 ملازمین اور 2 نجی صفائی کارکن شامل ہیں، جب کہ زخمی شخص کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
حادثے کی خبر ملتے ہی ضلع کلکٹر، سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اور انتظامیہ کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور ریسکیو آپریشن شروع کردیا۔ امدادی کاروائی میں دشواری کے باعث اضافی چیمبر کے اوپر لگے ٹین شیڈ کو کٹر سے کاٹنا پڑا۔ حکام کے مطابق لاشوں اور متاثرین تک محفوظ رسائی کے لیے تقریباً 2 گھنٹے 30 منٹ تک مسلسل کاروائی جاری رہی تب جا کر لاشوں کو باہر نکالا جا سکا۔ اس دوران 3 پولیس اہلکار بھی ریسکیو میں حصہ لیتے ہوئے زخمی ہوئے جنہیں علاج کے لیے اسپتال بھیجا گیا۔
مقامی عینی شاہدین نے بتایا کہ کارکن حفاظتی سازوسامان کے بغیر تنگ اور گہرے چیمبر میں اترے تھے، جہاں جمع زہریلی گیس نے چند ہی لمحوں میں انہیں بے ہوش کردیا۔ آصف خان نامی مقامی نوجوان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں رات تقریباً 12 بجے فون آیا اور معلوم ہوا کہ ان کے ماموں ٹینک میں گر گئے ہیں۔ جائے وقوعہ پر پہنچنے پر واضح ہوا کہ وہ دم توڑ چکے ہیں۔ ان کے مطابق متوفی اوور ٹائم کر رہے تھے، کرائے کے مکان میں پچھلے 4 برس سے رہائش پذیر تھے اور ان کے 4 بچے ہیں، اس لیے خاندان کو مناسب معاوضہ دیا جانا چاہیے۔ ایک اور نوجوان نے الزام لگایا کہ ہوٹل انتظامیہ نے چیمبر کے سائز اور خطرات سے آگاہ نہیں کیا تھا، صرف کچرا نکالنے کی ہدایت دی گئی، پھسلن کے باعث ان کے بھائی بھی چیمبر میں جا گرے اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ متاثرہ اہل خانہ نے ہوٹل مالک کے خلاف سخت کاروائی، متاثرہ خاندان کے ایک فرد کو سرکاری ملازمت اور ہر خاندان کو 1 کروڑ روپے معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
شہر کے میئر مکیش ٹٹوال حادثے کے بعد متاثرہ خاندانوں سے ملنے اسپتال اور جائے وقوعہ پر پہنچے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ میونسپل کارپوریشن متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بلدیہ کو اطلاع دیے بغیر اور حفاظتی اصولوں کو نظرانداز کرکے اس نوعیت کی صفائی کرانا سنگین لاپروائی ہے، اس لیے معاملے کی فوری اور جامع تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔ میئر نے افسران کو واضح ہدایت دی کہ جس بھی ہوٹل مالک یا تاجر نے حفاظتی انتظامات کے بغیر صفائی کرائی ہے اس کے خلاف سخت تادیبی کاروائی کی جائے اور متاثرہ خاندانوں کی بازآبادکاری کے اقدامات یقینی بنائے جائیں۔
انتظامیہ نے کہا کہ ابتدائی شواہد کے مطابق واقعہ زہریلی گیس کے اخراج کے باعث پیش آیا، تاہم گیس کی نوعیت اور اخراج کے اسباب جاننے کے لیے تکنیکی جانچ کرائی جا رہی ہے۔ پولیس نے لاپروائی، حفاظتی معیار کی خلاف ورزی اور مجرمانہ کوتاہی کے زاویوں سے مقدمہ درج کرنے کے امکانات کا اشارہ دیا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ صنعتی سیفٹی پروٹوکول، کنفائنڈ اسپیس میں کام کے رہنما یانہ اصول اور ایمرجنسی ریسپانس کی تربیت کو لازمی قرار دیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔






