غزہ میں تقریباً تین سال کے وقفے کے بعد بچوں کی تعلیمی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہوگئی ہیں۔ نیا تعلیمی سال 19 ستمبر 2026 کو شروع ہوا۔ بچے تباہ شدہ اسکولز، عارضی تعلیمی مراکز اور خیموں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جہاں بنیادی سہولیات کی شدید کمی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، غزہ میں 359 عارضی تعلیمی مراکز کے ذریعے بچوں کو دوبارہ تعلیم سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
خیموں اورعارضی مراکز میں تعلیم
رپورٹ کے مطابق، جنگ سے ہوئی شدید تباہی کے باوجود محکمہ تعلیم اور مختلف بین الاقوامی و مقامی تنظیموں کے تعاون سے نیا تعلیمی سال شروع کیا گیا ہے۔ بچوں کے لیے خیموں، ترپالوں، دھاتی چادروں اور لکڑی سے عارضی کلاس رومز بنائے گئے ہیں۔
بچے (UNICEF) اور دیگر تنظیموں کے تعاون سے چلنے والے عارضی تعلیمی مراکز میں پہنچ رہے ہیں۔ بہت سے بچوں کے لیے اسکول واپسی خوشی کے ساتھ معمول کی زندگی کی طرف واپسی کی امید بھی لے کر آئی ہے۔
359 عارضی تعلیمی مراکز قائم
رپورٹ کے مطابق، نئے تعلیمی سال کی تیاری کے لیے غزہ میں 359 عارضی تعلیمی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ ان مراکز کے ذریعے بچوں کو دوبارہ تعلیم سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
طالب علم مؤید ابو مصطفیٰ نے کہا کہ وہ آخری بار تقریباً تین سال پہلے اسکول گئے تھے اور اب نئے تعلیمی سال کے آغاز پر خوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود بچے خیموں میں بھی تعلیم جاری رکھیں گے۔
طلبہ کے پاس بنیادی تعلیمی سامان بھی نہیں
مؤید ابو مصطفیٰ نے بتایا کہ بہت سے بچوں کے پاس مناسب جوتے، نوٹ بکس اور قلم تک موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جنگ کے دوران انہوں نے اپنے دوستوں کو کھو دیا۔ رپورٹ کے مطابق، غزہ میں تقریباً 97.5 فیصد اسکولز کو نقصان پہنچا ہے یا وہ تباہ ہو چکے ہیں۔
6 لاکھ 60 ہزار طلبہ تعلیم سے محروم رہے
رپورٹ کے مطابق، تقریباً 6 لاکھ 60 ہزار طلبہ گزشتہ سالوں کے دوران بالمشافہ تعلیم اور باقاعدہ تعلیمی سرگرمیوں سے محروم رہے ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر امدادی ادارے عارضی تعلیمی مراکز کے ذریعے زیادہ سے زیادہ بچوں کو دوبارہ تعلیم سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔






