دہلی کے شالیمار باغ علاقے میں 23 ستمبر کی رات دیر گئے غیر قانونی تعمیرات ہٹانے کے لیے بلڈوزر کاروائی کی گئی۔ میکس ہسپتال روڈ کو کشادہ کرنے کے منصوبے کے تحت بلڈوزر چلائے گئے، جس کے دوران مدینہ مسجد کے ایک حصے اور قریبی کچھ تعمیرات کو ہٹا دیا گیا۔ حکام کے مطابق یہ تعمیرات سڑک کی توسیع میں رکاوٹ بن رہی تھیں اور انہیں تجاوزات قرار دیا گیا تھا۔
مسجد پرکاروائی۔ مقامی لوگوں کا احتجاج
مدینہ مسجد کے ایک حصے کو منہدم کیے جانے کی خبر پھیلنے کے بعد علاقے میں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوگئے۔ اے آئی ایم آئی ایم (AIMIM) دہلی کے صدر شعیب جمائی بھی اطلاع ملنے کے بعد موقع پر پہنچے اور کاروائی پر سوال اٹھائے۔
مسجد انتظامیہ کا تین نوٹس ملنے کا دعویٰ
رپورٹ کے مطابق، مسجد انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انہیں مسجد خالی کرنے کے لیے مسلسل تین نوٹس دیے گئے تھے۔ انتظامیہ کے مطابق کاروائی کے خلاف قانونی راستہ بھی اختیار کیا گیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ انہدامی کا روائی میکس ہسپتال روڈ کو کشادہ کرنے کے منصوبے کا حصہ ہے۔ اسی علاقے میں مئی کے آخر میں بھی سڑک کی توسیع کے لیے تقریباً 150 مکانات کے خلاف انہدامی کاروائی کی گئی تھی۔ متاثرہ افراد نے اس معاملے میں دہلی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا تھا۔
اے آئی ایم آئی ایم رہنما نے کاروائی پر سوال اٹھائے
بلڈوزرکاروائی کے دوران بڑی تعداد میں لوگ موقع پر جمع ہوگئے۔ شعیب جمائی نے رات گئے مسجد پر کی گئی کاروائی کو ’غیر آئینی‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسجد پر رات تقریباً 3 بجے کاروائی کی گئی اور انہوں نے اس کا موازنہ اتر پردیش کے سہارنپور میں مسجد کے انہدام سے کیا۔
ایکس کے ذریعے ایک پوسٹ میں شعیب جمائی نے کہا کہ پارٹی صدر اسد الدین اویسی کی ہدایات پر اے آئی ایم آئی ایم دہلی کی ٹیم اطلاع ملنے کے بعد شالیمار باغ پہنچی۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ پولیس انتظامیہ مسجد کے امام سے ملنے سے کیوں روک رہی ہے۔
جمائی نے ایک ویڈیو بھی شیئر کی اور دعویٰ کیا کہ مسجد کو رات کے وقت منہدم کیا گیا اور مناسب مہلت نہیں دی گئی۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مسجد کا باقی حصہ بھی منہدم کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ لوگوں کو جائے وقوعہ کے قریب جانے سے روکا جا رہا ہے اور مسجد کے امام کو بھی احاطے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے حکام سے اپیل کی کہ امام یا مسجد کمیٹی کے ارکان کو مسجد کے اندر موجود قرآن پاک کے نسخے باہر نکالنے کی اجازت دی جائے۔
شعیب جمائی نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ عہدیدار آئین کی پاسداری کا حلف لیتے ہیں، لیکن ایسی کاروائی سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ اپنے حلف کی پاسداری کر رہے ہیں۔
جمعیۃ علماء ہند کا ہنگامی اجلاس
جمعیۃ علماء ہند کی مجلسِ عاملہ کا ہنگامی اجلاس آج، 23 ستمبر کو نئی دہلی میں ہو رہا ہے۔ اجلاس میں ملک میں مساجد اور مدارس سے متعلق مسائل، مذہبی آزادی اور آئینی حقوق پر غور کیا جائے گا۔ اجلاس جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی کی صدارت میں ہو رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، مسلم تنظیموں نے مساجد اور مدارس سے متعلق انہدام اور بے دخلی کی کاروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اجلاس میں کسی اہم فیصلے پر بات چیت متوقع ہے۔ اس کے علاوہ قانونی کاروائی سمیت دیگر راستوں پر مشتمل ایک روڈ میپ پیش کیے جانے کا بھی امکان ہے۔






