اتر پردیش میں 2027 کے اسمبلی انتخابات سے پہلے سیاسی بیان بازی تیز ہوگئی ہے۔ مرکزی وزیر اور بی جے پی رہنما گری راج سنگھ نے کانگریس لیڈرراہل گاندھی کو اتر پردیش میں اکیلے انتخاب لڑنے کا چیلنج دیا ہے۔ انہوں نے کانگریس اور سماج وادی پارٹی کے درمیان اتحاد پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ حالیہ دنوں میں دونوں جماعتوں کے درمیان سیٹوں کی تقسیم اور انتخابی حکمت عملی کو لے کر اختلافات کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ گری راج سنگھ نے راہل گاندھی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان میں ہمت ہے تو وہ اتر پردیش میں بغیر کسی اتحاد کے انتخاب لڑیں۔ انہوں نے کانگریس-ایس پی اتحاد کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ یہ اتحاد سیاسی مجبوری کا نتیجہ ہے۔ ان کے یہ تبصرے آئندہ یوپی اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے درمیان سامنے آئے ہیں۔
گری راج سنگھ نے بہار کے انتخابی معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے بھی راہل گاندھی اور تیجسوی یادو پر تنقید کی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ دونوں رہنما مختلف اضلاع کا دورہ کرتے رہے، لیکن الیکشن کمیشن کی جانب سے بار بار مطالبہ کیے جانے کے باوجود مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق مطلوبہ نام یا ثبوت کمیشن کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن رہنماؤں نے انتخابی عمل کو لے کر لوگوں میں الجھن پیدا کرنے کی کوشش کی۔ یہ گری راج سنگھ کا سیاسی مؤقف ہے، جبکہ الیکشن کمیشن اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان ووٹر لسٹوں کی نظرثانی اور انتخابی عمل کو لے کر الگ الگ دعوے اور اعتراضات سامنے آتے رہے ہیں۔
گری راج سنگھ نے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو بھی نشانہ بنایا۔ حالیہ INDIA اتحاد کی میٹنگ میں ممتا بنرجی کی شرکت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بنگال انتخابات سے پہلے وہ اپوزیشن جماعتوں کے اتنے قریب نہیں تھیں، لیکن اب اتحاد کے اجلاس میں شامل ہو رہی ہیں۔ انہوں نے ووٹر لسٹ سے بنگلہ دیشی شہریوں کے نام مبینہ طور پر نکالے جانے کے معاملے پر ممتا بنرجی کے مؤقف کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اپوزیشن جماعتیں اپنے اپنے سیاسی مفادات کے لیے ایک ساتھ آئی ہیں۔ حالیہ INDIA بلاک اجلاس میں ممتا بنرجی سمیت کئی اپوزیشن رہنماؤں نے الیکشن کمیشن سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال کیا تھا۔
نتیش کمار کے بارے میں سونیا گاندھی کے حالیہ ریمارکس پر بھی گری راج سنگھ نے ردعمل دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نتیش کمار نے اپوزیشن اتحاد کے اندر کی سیاسی صورتحال کو سمجھ لیا تھا اور اسی وجہ سے انہوں نے الگ راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے سونیا گاندھی کے تبصرے کو بہار کے لیے نامناسب قرار دیا اور کہا کہ نتیش کمار کو ’غدار‘ قرار دینا ریاست کی توہین کے مترادف ہے۔ دوسری جانب جے ڈی یو نے بھی سونیا گاندھی کے تبصروں پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔






