ایس آئی آر یعنی ووٹر فہرستوں کی خصوصی تفصیلی نظرثانی کے معاملے پر جاری تنازع کے درمیان کانگریس رہنما راہل گاندھی نے الیکشن کمیشن سے فارم 6 میں کی گئی تبدیلی پر سوال اٹھائے ہیں۔
راہل گاندھی نے جمعرات، یکم اکتوبر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ کے ذریعےایک پوسٹ میں پوچھا کہ آن لائن فارم 6 میں تبدیلی کرنے کی ہدایت الیکشن کمیشن میں کس نے دیا اور کیا اس تبدیلی کو نافذ کرنے کے لیے ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز یعنی ٹی سی ایس پر دباؤ ڈالا گیا تھا۔
فارم 6 میں تبدیلی پر تنازع کیوں؟
یہ معاملہ اس وقت زیادہ اہم ہوگیا جب الیکشن کمشنرز سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے فارم 6 کے ساتھ شامل کیے گئے اضافی اعلامیے پر اعتراضات اٹھائے۔
رپورٹس کے مطابق دونوں کمشنرز نے اس بات پر سوال اٹھایا کہ قانونی طور پر مقرر فارم میں تبدیلی کس طریقے سے کی گئی۔ الیکشن کمیشن نے دوسری جانب کہا ہے کہ فارم 6 میں خود کوئی قانونی ترمیم نہیں کی گئی تھی بلکہ ایس آئی آر کے دوران ایک اضافی اعلامیہ شامل کیا گیا تھا۔ کمیشن کے مطابق ایس آئی آر مکمل ہونے کے بعد اس اضافی اعلامیے کو ہٹا دیا گیا ہے۔
راہل گاندھی نے اسی معاملے پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ الیکشن کمیشن میں کس نے ٹی سی ایس کو یہ تبدیلی کرنے کی ہدایت دی، ٹی سی ایس میں اسے کس نے منظور کیا اور کیا کمپنی پر اس تبدیلی کے لیے دباؤ ڈالا گیا تھا۔ یہ راہول گاندھی کے سوالات اور الزامات ہیں، جن کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔
انڈیا اتحاد کا احتجاج کا اعلان
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انڈیا اتحاد نے ایس آئی آر اور انتخابی عمل سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا ہے۔
اتحاد نے ملک بھر کے اضلاع میں ’جمہوریت بچاؤ‘ مارچ کرنے اور بڑے جلسے منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ 6 اکتوبر کو الیکشن کمیشن کے دفتر تک مارچ بھی کریں گے۔ اس کے علاوہ اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے صدرِ مملکت سے ملاقات کا منصوبہ بھی بتایا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن کا مؤقف
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ انتخابی فہرستیں مقررہ قانونی طریقہ کار کے تحت تیار کی جاتی ہیں۔ کمیشن نے فارم 6 کے معاملے پر اٹھنے والے سوالات کے بعد ای سی آئی نیٹ کے نظام کا جائزہ لینے کے لیے بھی اقدامات کیے ہیں۔
اس طرح فارم 6 میں اضافی اعلامیے کی شمولیت، اس پر دو الیکشن کمشنرز کے اعتراضات اور بعد میں کچھ ریاستوں میں اس اعلامیے کو ہٹانے کے معاملے نے ایس آئی آر کے تنازع کو مزید اہم بنا دیا ہے۔
فارم 6 کیا ہے؟
فارم 6 نئے ووٹرز کے نام ووٹر لسٹ میں شامل کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ حالیہ تنازع ایس آئی آر کے دوران اس فارم کے ساتھ ایک اضافی اعلامیے کو شامل کیے جانے سے متعلق ہے۔
اس اضافی اعلامیے میں نئے ووٹرز سے کہا گیا تھا کہ وہ یہ معلومات دیں کہ ان کا، ان کے والدین یا دادا دادی اور نانا نانی کا نام پہلے کی خصوصی نظرثانی کے دوران تیار کی گئی ووٹر فہرست میں شامل تھا یا نہیں۔
الیکشن کمیشن نے اضافی اعلامیہ ہٹا دیا
الیکشن کمیشن نے 30 ستمبر سے ان ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں فارم 6 سے یہ اضافی اعلامیہ ہٹا دیا جہاں ایس آئی آر کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔
یہ اضافی حصہ ای سی آئی نیٹ ایپ، پورٹل اور متعلقہ چیف الیکٹورل افسر کی ویب سائٹس سے بھی ہٹا دیا گیا ہے۔ اب ان علاقوں میں نئے ووٹرز کو صرف وہی قانونی فارم 6 جمع کرانا ہوگا جو ووٹرز کی رجسٹریشن کے قواعد 1960 کے تحت مقرر ہے۔ البتہ جن ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ایس آئی آر کا عمل ابھی جاری ہے، وہاں اضافی اعلامیہ موجود رہے گا۔
26 ستمبر کی میٹنگ کے بعد یہ فیصلہ سامنے آیا
رپورٹ کے مطابق چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور الیکشن کمشنرز سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کے درمیان 26 ستمبر کو میٹنگ ہوئی تھی۔ اس کے بعد SIR مکمل ہونے والے علاقوں میں اضافی Declaration ہٹانے کا فیصلہ سامنے آیا-
رپورٹس کے مطابق 19 جماعتوں کے INDIA اتحاد نے 2 سے 8 اکتوبر تک ضلعی سطح پر "جمہوریت بچاؤ مارچ" کا اعلان کیا ہے۔ اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ 6 اکتوبر کو الیکشن کمیشن تک مارچ کریں گے، جبکہ پانچ بڑے جلسوں کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
آندھرا پردیش اور میگھالیہ میں SIR کی تاریخ آگے بڑھائی گئی
30 ستمبر کو الیکشن کمیشن نے آندھرا پردیش اور میگھالیہ میں SIR کا شیڈول آگے بڑھایا۔ آندھرا پردیش کی حتمی ووٹر فہرست اب 16 اکتوبر اور میگھالیہ کی 26 اکتوبر کو جاری ہونے کی توقع ہے۔







