فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے تین روزہ عالمی مہم کا آغاز آج جمعہ، 9 اکتوبر سے ہو رہا ہے۔ یہ مہم غزہ پر اسرائیلی جنگ کے آغاز کی تیسری برسی کے موقع پر منعقد کی جا رہی ہے۔ اس کے تحت دنیا بھر کے سیکڑوں مقامات پر احتجاجی مظاہروں، عوامی سرگرمیوں اور یکجہتی کے پروگراموں کا اہتمام کیا جائے گا۔ یہ مہم 11 اکتوبر، اتوار تک جاری رہے گی۔ گزشتہ روز جاری کیے گئے ایک بیان میں گلوبل الائنس فار فلسطین نے دنیا بھر کے عوام، انسانی حقوق کی تنظیموں، ٹریڈ یونینز، سول سوسائٹی کے اداروں اور فلسطین کی حمایت کرنے والی تحریکوں سے اپیل کی کہ وہ اس عالمی مہم میں حصہ لیں۔ اتحاد کے مطابق، اس مہم کا مقصد غزہ میں جاری تشدد کو روکنا، فلسطینی سرزمین کا تحفظ کرنا اور اسرائیلی قبضے کے خاتمے کا مطالبہ کرنا ہے۔
گلوبل الائنس فار فلسطین نے اپیل کی کہ شہروں کی سڑکوں، عوامی چوکوں، پارلیمانوں اور میڈیا و ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے استعمال کیا جائے۔ بیان میں انصاف، احتساب اور قبضے کے خاتمے پر زور دیا گیا۔ GAFP نے کہا کہ فلسطینی عوام کو درپیش قتل و غارت، تباہی، جبری بے دخلی اور فوجی محاصرے کو معمول کی صورتِ حال کے طور پر قبول نہیں کیا جانا چاہیے۔ اتحاد نے ان سیاسی، فوجی اور معاشی تعلقات کو ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا جو، اس کے بقول، اسرائیلی کارروائیوں کو جاری رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس نے بین الاقوامی فورمز پر اسرائیل کو حاصل سیاسی حمایت اور مبینہ استثنیٰ پر بھی تنقید کی، خصوصاً امریکہ کی حمایت کا ذکر کیا۔
اتحاد نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ 10 اکتوبر 2025 کو جنگ بندی کے اعلان کے باوجود غزہ میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ نہیں رکا۔ غزہ کی پٹی کی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق، جنگ بندی کے بعد مبینہ خلاف ورزیوں کے نتیجے میں 1,467 فلسطینی ہلاک اور 5,161 زخمی ہوئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار گزشتہ بدھ تک کے بتائے گئے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ اگر جنگ بندی کے دوران بھی شہری ہلاک ہوتے رہیں تو اسے پائیدار امن قرار دینا مشکل ہے۔ اتحاد نے غزہ میں جاری انسانی بحران کے خاتمے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔
فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اکتوبر 2023 میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے غزہ میں 74 ہزار سے زیادہ فلسطینی ہلاک اور ایک لاکھ 75 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ جنگ کے نتیجے میں علاقے کے تقریباً 90 فیصد بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے یا تباہ ہونے کی اطلاع ہے۔ گلوبل الائنس فار فلسطین کا قیام 26 جولائی 2025 کو لندن میں عمل میں آیا تھا۔ گلوبل الائنس فار فلسطین کے مطابق، اس میں پارلیمانی، ٹریڈ یونین اور انسانی حقوق کے شعبوں سے وابستہ شخصیات شریک تھیں۔ موجودہ عالمی مہم کے ذریعے تنظیم فلسطینی عوام کے لیے حمایت بڑھانے اور جنگ کے خاتمے کے مطالبے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا چاہتی ہے۔






