موٹاپا اب صرف وزن بڑھنے کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، فیٹی لیور، دل کی بیماریوں اور دیگر صحت کے مسائل کے خطرے سے بھی وابستہ ہے۔ وزن کم کرنے کے لیے خوراک اور ورزش کے ساتھ ادویات کا استعمال بھی بعض مریضوں کے علاج کا حصہ بن چکا ہے۔ خاص طور پر GLP-1 analogues نے موٹاپے کے علاج کے حوالے سے کافی توجہ حاصل کی ہے۔ اس موضوع پر منصف ٹی وی کے خصوصی پروگرام ’’ہیلتھ اور ہم‘‘ میں تفصیلی گفتگو کی گئی۔
اس پروگرام میں ڈاکٹر۔ جی۔ایس سمیر کمار، کنسلٹنٹ میڈیکل گیسٹرو اینٹیرولوجسٹ اور ہیپاٹولوجسٹ، کِمز-سن شائن ہاسپٹلز، بیگم پیٹ، حیدرآباد نے موٹاپے کے علاج میں استعمال ہونے والی GLP-1 ادویات کے بارے میں اہم معلومات فراہم کیں۔
GLP-1 ایک ایسا ہارمون ہے جو جسم میں کھانے کے بعد پیدا ہوتا ہے اور بھوک، خون میں شوگر اور معدے سے خوراک کے گزرنے کے عمل کو متاثر کرتا ہے۔ GLP-1 پر اثر انداز ہونے والی ادویات بعض افراد میں بھوک کم کرنے اور پیٹ بھرنے کا احساس زیادہ دیر برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں مجموعی کیلوری کی مقدار کم ہوسکتی ہے اور وزن میں کمی آ سکتی ہے۔
تاہم ماہر کے مطابق ہر شخص کے لیے وزن کم کرنے والی دوا مناسب نہیں ہوتی۔ ان ادویات کا استعمال مریض کے وزن، BMI، ذیابیطس یا دیگر بیماریوں، استعمال ہونے والی دوسری ادویات اور مجموعی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈاکٹر کے مشورے سے کیا جانا چاہیے۔
GLP-1 ادویات استعمال کرنے والے بعض افراد میں متلی، الٹی، پیٹ میں بے آرامی، قبض یا اسہال جیسی علامات ہوسکتی ہیں۔ عموماً خوراک میں تبدیلی اور طبی نگرانی کے ذریعے ان مسائل کو سنبھالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کسی بھی دوا کی طرح ان ادویات کے بھی مخصوص طبی حالات میں احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔
ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ صرف دوا پر انحصار کرنا موٹاپے کے مکمل علاج کا متبادل نہیں۔ متوازن غذا، مناسب جسمانی سرگرمی، بہتر نیند اور طرز زندگی میں مستقل تبدیلیاں وزن کو طویل مدت تک قابو میں رکھنے کے لیے اہم ہیں۔ دوا بند کرنے کے بعد بعض افراد میں وزن دوبارہ بڑھ بھی سکتا ہے، اس لیے علاج کا منصوبہ ڈاکٹر کی نگرانی میں طویل مدتی بنیادوں پر طے کیا جانا چاہیے۔
موٹاپے کے ساتھ فیٹی لیور یا ذیابیطس جیسے مسائل موجود ہوں تو وزن میں مناسب کمی مجموعی صحت کے لیے فائدہ مند ہوسکتی ہے۔ لیکن سوشل میڈیا یا دوسروں کے تجربات کی بنیاد پر خود سے GLP-1 دوا شروع کرنا مناسب نہیں۔
ماہر کا پیغام یہی ہے کہ موٹاپا ایک پیچیدہ طبی مسئلہ ہے اور اس کا علاج ہر فرد کے لیے مختلف ہوسکتا ہے۔ درست مریض کا انتخاب، مناسب دوا، باقاعدہ طبی نگرانی اور صحت مند طرز زندگی کو ساتھ لے کر چلنا ہی وزن میں محفوظ اور پائیدار کمی کی بنیاد بن سکتا ہے۔
قارئین آپ، ڈاکٹرجی ایس سمیر کمار،کنسلٹنٹ میڈیکل گیسٹرو اینٹیرولوجسٹ، کمزسن شائن ہاسپٹل، حیدرآباد کی مکمل گفتگو👇یہاں دیکھ سکتےہیں۔ ساتھ ہی منصف ٹی وی ہیلتھ پر صحت سے متعلق ہزاروں ویڈیوز بھی دیکھ سکتےہیں۔







