Tuesday, September 22, 2026 | 08 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • جموں وکشمیر
  • »
  • جموں و کشمیر اسمبلی میں دوسرے دن ہنگامہ۔ یومِ شہداء کی چھٹی بحال کرنے کا مطالبہ

جموں و کشمیر اسمبلی میں دوسرے دن ہنگامہ۔ یومِ شہداء کی چھٹی بحال کرنے کا مطالبہ

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: 22 Sept 2026

جموں و کشمیر اسمبلی میں دوسرے دن ہنگامہ۔ یومِ شہداء کی چھٹی بحال کرنے کا مطالبہ
جموں و کشمیر اسمبلی میں دوسرے روز بھی سوالات کے وقفے کے دوران اس وقت زبردست ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ حکمراں جماعت نے نیشنل کانفرنس کے بانی شیخ محمد عبداللہ کے یوم پیدائش پر سرکاری چھٹی بحال کرنے کا مطالبہ کیا، جسے دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد ختم کر دیا گیا تھا۔آج جیسے ہی اسمبلی کی کاروائی دوبارہ شروع ہوئی، نیشنل کانفرنس کے ایم ایل اے عبدالمجید لارمی نے پوائنٹ آف آرڈر اٹھاتے ہوئے پانچ دسمبر کی چھٹی جو کہ شیخ عبداللہ کی برسی پر ہوتی تھی، کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔
 
بحث کا آغاز اُس وقت ہوا جب اننت ناگ ویسٹ کے رکنِ اسمبلی عبدالمجید لارمی نے سابق قائد مرحوم شیخ محمد عبداللہ کے یومِ پیدائش پر سرکاری چھٹی کا مطالبہ اٹھاتے ہوئے ایوان کی توجہ 23 ستمبر کو مہاراجہ ہری سنگھ کے یومِ ولادت پر منائی جانے والی تعطیل کی جانب مبذول کرائی۔ پی ڈی پی کے ایم ایل اے وحید الرحمان پرّہ نے اس مؤقف کی تائید کرتے ہوئے تاریخی 'یومِ شہداء' کی چھٹی بحال کرنے پر زور دیا۔اس پر اپوزیشن بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے شدید ہنگامہ آرائی ہوئی جس نے ہری سنگھ کی چھٹی منسوخ کرنے کے مطالبے کی مخالفت کی۔ بی جے پی کے اراکین نے ان مطالبات پر فوری اعتراض جتایا اور مہاراجہ ہری سنگھ سے منسوب تعطیل کے موازنے پر شدید نکتہ چینی کی۔ جس سے ایوان میں تیکھی نوک جھونک شروع ہو گئی۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اسپیکر اسمبلی عبدالرحیم راتھر نے مداخلت کی اور واضح کیا کہ سرکاری تعطیلات منظور یا منسوخ کرنے کا اختیار قانون ساز اسمبلی کے پاس نہیں ہے۔
 
 جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے خزاں اجلاس کے دوسرے دن کی کارروائی آج تقریباً پانچ گھنٹے تک جاری رہنے کے بعد اختتام پذیر ہو گئی۔جس کے بعد اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے کل کی تعطیل کے پیشِ نظر ایوان کی کاروائی جمعرات تک کے لیے ملتوی کر دی۔ ایوان کا التوا یکم جنوری 2019 سے قبل تعینات اساتذہ کو ٹیچر ایلیجبلٹی ٹیسٹ  سے استثنیٰ دینے سے متعلق قرارداد پر بحث کے بعد عمل میں آیا۔ 
 
وزیر تعلیم سکینہ اِتو نے اس معاملے کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے منظوری سے قبل تفصیلی بحث پر زور دیا۔جس پر تمام اراکین نے اتفاق کیا۔ اسی دوران، ایوان نے وزیر برائے کوآپریٹو جاوید احمد ڈار کی جانب سے پیش کردہ 'جموں و کشمیر کوآپریٹو سوسائٹیز (ترمیمی) بل 2026' کو منظوری دے دی۔جس سے 'جموں و کشمیر سیلف ریلائنٹ کوآپریٹو ایکٹ 1999' کی منسوخی اور عبوری انتظامات کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
 
 اس سے قبل، وقفۂ سوالات کے دوران سیلاب ریلیف، بجلی، صحت، سڑکوں، جیسے اہم عوامی مسائل پر قانون سازوں کے سوالات کے تفصیلی جوابات وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری اور کابینہ وزراء سکینہ اِتو اور ستیش شرما نے دئے ۔ ، جبکہ حکومت نے مختلف شعبوں میں بھرتیوں اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق تفصیلات بھی ایوان کے سامنے رکھیں۔جموں و کشمیر کوآپریٹو سوسائٹیز (ترمیمی) بل کو دی گئی منظوری گئی۔