سڑک حادثات میں بعض اوقات مریض کی زندگی اور موت کے درمیان فرق صرف چند منٹوں کا ہوتا ہے۔ حادثے کے فوراً بعد ملنے والی طبی امداد نہ صرف جان بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے بلکہ شدید چوٹوں اور مستقل معذوری کے خطرے کو بھی کم کرسکتی ہے۔ حادثات میں فریکچر اور دیگر سنگین چوٹوں کے علاج میں Golden Hour (سنہری وقفہ)کی اہمیت پر منصف ٹی وی کے خصوصی پروگرام ’’ہیلتھ اور ہم‘‘ میں تفصیلی گفتگو کی گئی۔
پروگرام میں Dr. Kamalakar Rao، Consultant Orthopaedic & Trauma Surgeon، KIMS-SUNSHINE Hospitals, Begumpet, Hyderabad نے حادثات کے بعد فوری طبی امداد، فریکچر اور گولڈن آور سے متعلق اہم معلومات فراہم کیں۔
حادثے کے بعد ابتدائی ایک گھنٹہ مریض کے لیے انتہائی اہم ہوسکتا ہے۔ اگر شدید خون بہہ رہا ہو، سانس لینے میں دشواری ہو، سر یا سینے پر شدید چوٹ لگی ہو یا ہڈی ٹوٹ گئی ہو تو تاخیر کے بغیر طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔ بعض شدید چوٹوں میں بروقت ابتدائی علاج پیچیدگیوں کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
فریکچر کی صورت میں متاثرہ حصے کو غیر ضروری طور پر حرکت دینا نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ اگر ٹانگ یا بازو کی ہڈی ٹوٹنے کا شبہ ہو تو اسے سیدھا کرنے یا خود سے جوڑنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ متاثرہ حصے کو ممکن حد تک ساکن رکھنا اور مریض کو محفوظ طریقے سے ہسپتال پہنچانا زیادہ اہم ہے۔
حادثے کے بعد بعض چوٹیں بظاہر معمولی دکھائی دے سکتی ہیں، لیکن اندرونی خون بہنا یا دیگر سنگین نقصان فوری طور پر نظر نہیں آتا۔ اسی لیے شدید حادثے کے بعد طبی معائنہ ضروری ہے، چاہے مریض کو شروع میں درد کم ہی محسوس ہو۔
ماہر کے مطابق حادثے کے مقام پر لوگوں کا غیر ضروری ہجوم بھی بعض اوقات مریض کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ زخمی شخص کو بار بار اٹھانے یا غلط طریقے سے منتقل کرنے کے بجائے تربیت یافتہ امدادی عملے کی مدد حاصل کرنا بہتر ہے۔ اگر مریض بے ہوش ہو، سانس لینے میں دشواری ہو یا شدید خون بہہ رہا ہو تو فوری طور پر ایمرجنسی سروسز سے رابطہ کرنا چاہیے۔
فریکچر کے علاج کا فیصلہ چوٹ کی نوعیت، ہڈی کی جگہ، فریکچر کی شدت اور مریض کی مجموعی صحت کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔ کچھ فریکچر پلاسٹر یا بریس سے ٹھیک ہوسکتے ہیں، جبکہ پیچیدہ فریکچر میں سرجری اور پلیٹ، اسکرو یا دیگر امپلانٹس کی ضرورت پڑسکتی ہے۔
حادثات سے مکمل طور پر بچنا ہمیشہ ممکن نہیں، لیکن ہیلمٹ اور سیٹ بیلٹ کا استعمال، ٹریفک قوانین کی پابندی اور تیز رفتاری سے گریز خطرے کو کم کرسکتا ہے۔ حادثے کی صورت میں سب سے اہم پیغام یہی ہے کہ وقت ضائع نہ کریں، زخمی کو جلد از جلد مناسب طبی مرکز تک پہنچائیں۔
قارئین آپ ، ڈاکٹر کمالاکر راؤ، کنسلٹنٹ ارتھوپٹیک اینڈ ٹروما سرجن ،کِمز سن شائن ہاسپٹلز حیدرآباد کی مکمل گفتگو👇یہاں دیکھ سکتےہیں۔ ساتھ ہی منصف ٹی وی ہیلتھ پر صحت سے متعلق ہزاروں ویڈیوز بھی دیکھ سکتےہیں۔






