چند سال پہلے دل کی بیماریوں کو عام طور پر عمر رسیدہ افراد سے جوڑا جاتا تھا، لیکن بدلتی طرز زندگی، جسمانی سرگرمی میں کمی، غیر متوازن غذا، ذہنی دباؤ اور دیگر عوامل کے باعث کم عمر افراد میں بھی دل سے متعلق مسائل کے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق دل کی ہر بیماری کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں، تاہم روزمرہ زندگی میں چند اہم تبدیلیاں اپنا کر خطرات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
اسی اہم موضوع پر “Prevention of Heart Disease: Lifestyle Strategies”منصف ٹی وی کے خصوصی پروگرام ’ہیلتھ اور ہم‘ میں Dr. Shailender Singh، Senior Consultant Interventional Cardiologist، KIMS-SUNSHINE Hospitals، Begumpet، Hyderabad نے تفصیلی روشنی ڈالی۔
ماہرین کے مطابق دل کو صحت مند رکھنے کے لیے سب سے پہلے خوراک پر توجہ دینا ضروری ہے۔ روزانہ کی غذا میں سبزیاں، پھل، ثابت اناج، دالیں اور مناسب مقدار میں پروٹین شامل کرنا فائدہ مند ہو سکتا ہے، جبکہ بہت زیادہ نمک، چینی، تلی ہوئی اشیا، ٹرانس فیٹ اور الٹرا پروسیسڈ فوڈ سے پرہیز بہتر ہے۔ ضرورت سے زیادہ نمک بلڈ پریشر بڑھا سکتا ہے، جو دل کی بیماری کے اہم خطرات میں شامل ہے۔
جسمانی سرگرمی بھی دل کی صحت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ مسلسل کئی گھنٹے بیٹھے رہنے کے بجائے روزمرہ معمول میں واک، ورزش یا دوسری مناسب جسمانی سرگرمی شامل کرنا مفید رہتا ہے۔ تاہم جن افراد کو پہلے سے دل کی بیماری، سانس کی تکلیف یا دیگر طبی مسائل ہوں، انہیں ورزش کا معمول شروع کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔
تمباکو نوشی دل کی صحت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ سگریٹ اور دیگر تمباکو مصنوعات خون کی نالیوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں اور دل کے دورے سمیت کئی قلبی مسائل کا خطرہ بڑھا سکتی ہیں۔ اسی طرح الکحل کے استعمال میں احتیاط بھی ضروری ہے۔ماہرین بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور بلڈ شوگر کی باقاعدہ جانچ پر بھی زور دیتے ہیں، کیونکہ یہ مسائل کئی مرتبہ ابتدائی مرحلے میں واضح علامات کے بغیر موجود رہتے ہیں۔ خاص طور پر ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، موٹاپے یا خاندان میں دل کی بیماری کی تاریخ رکھنے والے افراد کو اپنی صحت کے بارے میں زیادہ محتاط رہنا چاہیے۔
ذہنی دباؤ اور نیند کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ مناسب نیند، ذہنی سکون اور کام کے ساتھ آرام کے لیے وقت نکالنا مجموعی صحت کے لیے اہم ہے۔سینے میں دباؤ یا درد، سانس لینے میں دشواری، اچانک پسینہ آنا، متلی، چکر یا بازوکادرد ، کندھے، کمر یا جبڑے تک پہنچنا دل کے دورے کی ممکنہ علامات ہو سکتی ہیں۔ ایسی صورت میں انتظار کرنے کے بجائے فوری طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق دل کی حفاظت کسی ایک دن کی کوشش نہیں بلکہ روزمرہ کی عادات کا نتیجہ ہے۔ متوازن غذا، باقاعدہ جسمانی سرگرمی، تمباکو سے دوری، مناسب وزن اور باقاعدہ طبی معائنہ دل کو صحت مند رکھنے کی کوششوں کا اہم حصہ ہیں۔
قارئین آپ، ڈاکٹر شیلندر سنگھ۔ سینئر کنسلٹنٹ انٹروینشنل کارڈیالوجسٹ، KIMS-SUNSHINE، حیدرآباد کی مکمل گفتگو👇یہاں دیکھ سکتےہیں۔ ساتھ ہی منصف ٹی وی ہیلتھ پر صحت سے متعلق ہزاروں ویڈیوز بھی دیکھ سکتےہیں۔
یہ بھی پڑھیں👇: دل کی شریانوں میں رکاوٹ کیوں ہوتی ہے؟ کیا ہیں اس کی علامات اور علاج
یہ بھی پڑھیں👇: دل کی شریانوں میں رکاوٹ کیوں ہوتی ہے؟ کیا ہیں اس کی علامات اور علاج
https://munsiftv.com/news/coronary-artery-disease-symptoms-risks-and-treatment






