ہندوستان نے سمندری جہازوں پر ہونے والے مسلسل حملوں پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے حملے کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہیں۔ ہندوستان کا کہنا ہے کہ شہری اور تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے والے حملوں سے نہ صرف معصوم انسانی جانیں خطرے میں پڑتی ہیں بلکہ عالمی سمندری تجارت اور سپلائی چین بھی متاثر ہوتی ہے۔ اسی سلسلے میں ہندوستان نے لائبیریا کے ساتھ ایک اہم بحری اقدام شروع کیا ہے، جس کا مقصد سمندری مسافروں اور جہاز رانی کی حفاظت سے متعلق تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔ اس اقدام کے دوران سمندری راستوں کی سلامتی اور تجارتی جہازوں کو درپیش خطرات پر خصوصی توجہ دی گئی۔
وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ بحیرہ اسود سے لے کر بحیرہ احمر اور خلیجی خطے تک شہری اور تجارتی جہازوں پر حملوں کے واقعات عالمی برادری کے لیے بڑھتی ہوئی تشویش کا باعث بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سمندری راستوں کی حفاظت صرف متعلقہ ممالک کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کا براہ راست تعلق عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور مختلف ملکوں کی معیشت سے بھی ہے۔ جے شنکر نے کہا کہ شہری جہازوں پر حملے معصوم جانیں لیتے ہیں اور سمندری تجارت میں خلل پیدا کرتے ہیں، اس لیے ایسے اقدامات کو کسی بھی طرح جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ان کے مطابق عالمی سطح پر تجارت کا ایک بڑا حصہ سمندری راستوں کے ذریعے ہوتا ہے اور ان راستوں پر کسی بھی قسم کی غیر یقینی صورتحال کا اثر کئی ممالک تک پہنچ سکتا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ہندوستان اور لائبیریا کا مشترکہ اقدام صرف موجودہ خطرات کی نشاندہی کرنے تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد عالمی برادری کی توجہ اس مسئلے کی طرف مبذول کرانا اور سمندری سلامتی کے لیے مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو ایسے حملوں کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق شہری جہازوں اور ان میں سوار افراد کی حفاظت کو یقینی بنانا بین الاقوامی سطح پر ایک اہم ترجیح ہونی چاہیے۔ ہندوستان نے اس موقع پر واضح کیا کہ سمندری راستوں کی حفاظت، جہاز رانی کی آزادی اور تجارتی سرگرمیوں کا تحفظ عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ہندوستان اور لائبیریا کے درمیان شروع کیا گیا یہ بحری اقدام اسی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔







