Saturday, September 26, 2026 | 12 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • بینک ملازمین کی 28 سے 30 ستمبر تک ہڑتال

بینک ملازمین کی 28 سے 30 ستمبر تک ہڑتال

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 26 Sept 2026

بینک ملازمین کی 28 سے 30 ستمبر تک ہڑتال
ملک بھر کے بینک ملازمین کی یونینوں نے 28 سے 30 ستمبر تک تین روزہ ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ بینک ملازمین نے پانچ روزہ ورکنگ ہفتہ نافذ کرنے اور پنشن سے متعلق قوانین میں تبدیلی سمیت کئی مطالبات کو لے کر یہ ہڑتال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہڑتال کے اعلان کے بعد بینک صارفین کے درمیان بھی خدمات متاثر ہونے کو لے کر تشویش پیدا ہوئی ہے۔ ہڑتال کے دنوں سے پہلے ہی بینکوں کی مسلسل تعطیلات کا سلسلہ بن رہا ہے۔ 26 ستمبر کو مہینے کا چوتھا ہفتہ ہونے کی وجہ سے بینکوں میں تعطیل رہے گی، جبکہ 27 ستمبر کو اتوار کی عام تعطیل ہے۔ اس کے بعد 28 سے 30 ستمبر تک بینک ملازمین کی ہڑتال رہے گی۔ اس طرح کئی مقامات پر بینکنگ خدمات مسلسل پانچ دن تک متاثر ہونے کا امکان ہے۔
 
صارفین کو درپیش ممکنہ پریشانی کو کم کرنے کے لیے مرکزی حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے پیشگی انتظامات کیے گئے ہیں۔ اسی سلسلے میں سرکاری بینکوں اور علاقائی دیہی بینکوں کو 27 ستمبر، اتوار کے روز بھی کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مسلسل تعطیلات کے باعث لوگوں کو ضروری بینکنگ خدمات کے لیے زیادہ انتظار سے بچانا ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے بھی بینک کی شاخوں اور کیش سینٹرز کو اتوار کے روز معمول کے مطابق کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کے تحت ضروری نقدی سے متعلق خدمات اور دیگر اہم بینکنگ کام جاری رکھنے کی کوشش کی جائے گی، تاکہ صارفین کو ہڑتال سے پہلے اپنے فوری لین دین میں زیادہ دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
 
بینکنگ شعبے سے وابستہ یونینوں کی جانب سے بلائی گئی تین روزہ ہڑتال میں مختلف بینک ملازمین کی تنظیموں کی شرکت متوقع ہے۔ ملازمین کا اہم مطالبہ پانچ روزہ ورکنگ ہفتہ نافذ کرنا ہے۔ اس کے علاوہ پنشن قوانین میں تبدیلی اور ملازمین سے متعلق دیگر مسائل بھی ان کے مطالبات میں شامل ہیں۔ مرکزی وزارت خزانہ اور ریزرو بینک نے ہڑتال کے دوران صارفین کو ممکنہ مشکلات سے بچانے کے لیے ضروری انتظامات کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم، ہڑتال کے دوران بینک کی شاخوں میں معمول کی خدمات متاثر ہو سکتی ہیں۔ ایسے میں صارفین کے لیے مشورہ دیا گیا ہے کہ اگر انہیں کسی فوری بینکنگ کام کی ضرورت ہے تو وہ ممکنہ تعطیلات اور ہڑتال سے پہلے اپنا ضروری لین دین مکمل کر لیں۔ ڈیجیٹل بینکنگ، اے ٹی ایم اور آن لائن ادائیگی کی سہولیات دستیاب رہنے کی صورت میں لوگ ان کا بھی استعمال کر سکتے ہیں، تاہم کسی بھی سروس کی دستیابی متعلقہ بینک کے انتظامات پر منحصر ہوگی۔