Monday, November 02, 2026 | 21 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • کھیل/تفریح
  • »
  • نیوزی لینڈ سے سیریز جیتنے کے باوجود بھارتی ٹیم کی تین بڑی کمزوریاں

نیوزی لینڈ سے سیریز جیتنے کے باوجود بھارتی ٹیم کی تین بڑی کمزوریاں

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 02 Nov 2026

نیوزی لینڈ سے سیریز جیتنے کے باوجود بھارتی ٹیم کی تین بڑی کمزوریاں
ابتدائی تین میچ جیتنے کے بعد بھارت کو آخری دو مقابلوں میں شکست
ٹاپ آرڈر کی ناکامی، بولنگ میں تجربے کی کمی اور مڈل آرڈر کی سست بیٹنگ نے پریشان کیا
 
بھارت نے نیوزی لینڈ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز 3-2 سے اپنے نام کر لی، لیکن آخری دو میچوں میں مسلسل شکست نے بھارتی ٹیم کی کئی کمزوریاں سامنے لا دی ہیں۔ ابتدائی تین مقابلوں میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد شریس آئیر کی قیادت میں بھارتی ٹیم کو چوتھے اور پانچویں میچ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اتوار کو کھیلے گئے سیریز کے آخری مقابلے میں نیوزی لینڈ نے 192 رنز کا ہدف صرف 18 اوورز میں حاصل کر لیا۔ اس دوران بھارتی بولرز اور بیٹنگ دونوں ہی توقعات پر پورا نہیں اتر سکے۔ سیریز ہارنے کے باوجود نیوزی لینڈ 2019 کے بعد سے بھارت کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ تاہم سیریز اپنے نام کرنے کے باوجود بھارتی ٹیم کی تین بڑی کمزوریاں واضح ہو گئی ہیں۔
 
1۔ ٹاپ آرڈر ناکام تو پوری ٹیم دباؤ میں
 
اس سیریز میں ایک بات واضح نظر آئی کہ جب بھارتی اوپنرز نے اچھی شروعات کی تو ٹیم نے کامیابی حاصل کی، لیکن ٹاپ آرڈر کے ناکام ہوتے ہی پوری بیٹنگ لائن دباؤ میں آ گئی۔ پہلے میچ میں سیمسن نے 67 رنز کی اننگز کھیلی، جبکہ دوسرے مقابلے میں سیمسن اور ابھیشیک شرما نے ٹیم کو مستحکم آغاز دیا۔ تیسرے میچ میں ابھیشیک نے 113 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر بھارت کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔ بھارت نے یہ تینوں مقابلے جیتے۔ اس کے برعکس چوتھے اور پانچویں میچ میں نہ سیمسن اور نہ ہی ابھیشیک بڑی اننگز کھیل سکے۔ تلک ورما اور شریس آئیر بھی اپنی ذمہ داری نبھانے میں ناکام رہے، جس کا نتیجہ آخری دو میچوں میں شکست کی صورت میں سامنے آیا۔
 
2۔ بولنگ اٹیک میں تجربے کی کمی
 
بھارتی ٹیم کی دوسری بڑی کمزوری بولنگ اٹیک میں تجربے کی کمی رہی۔ بھونیشور کمار کے پاس 200 سے زیادہ بین الاقوامی میچوں کا تجربہ ہے، لیکن نیوزی لینڈ کے خلاف چار مقابلوں میں انہوں نے 180 رنز دیے اور صرف ایک وکٹ حاصل کی۔ البتہ بین الاقوامی کرکٹ سے چار سال کے وقفے کے بعد ان سے فوری طور پر بہترین کارکردگی کی توقع کرنا بھی آسان نہیں تھا۔ ارشدیپ سنگھ نے 6 وکٹیں لے کر بھارتی بولرز میں سب سے بہتر کارکردگی دکھائی۔ دوسری جانب مایانک یادو نے دو میچوں میں چار وکٹیں حاصل کیں، لیکن اہم مواقع پر رنز روکنے میں ناکام رہے۔ پرنس یادو نے بھی چار میچوں میں 158 رنز دیے۔ اس طرح تجربہ کار اور نوجوان بولرز کے درمیان تال میل کی کمی بھارتی ٹیم کے لیے مشکل بنی۔
 
3۔ ہموار پچوں پر بھی بڑا اسکور بنانے میں ناکامی
 
اس سیریز کے تقریباً تمام پانچ میچ ہموار پچوں پر کھیلے گئے، جہاں بڑے اسکور بننے کی توقع تھی۔ لیکن بھارتی بیٹنگ لائن اپ اہم مواقع پر اس کا فائدہ نہیں اٹھا سکی۔ چوتھے ٹی ٹوئنٹی میچ میں نیوزی لینڈ نے 259 رنز بنائے اور بھارت کو 260 رنز کا ہدف دیا۔ لیکن بھارتی بلے باز اس بڑے ہدف کے سامنے لڑکھڑا گئے اور پوری ٹیم صرف 172 رنز بنا سکی۔ پانچویں میچ میں بھی بھارت کی بیٹنگ میں تسلسل کی کمی نظر آئی۔ ایک وقت ایسا لگ رہا تھا کہ ٹیم 220 سے 230 رنز تک پہنچ جائے گی۔ پہلے 10 اوورز میں بھارت نے 111 رنز بنا لیے تھے، لیکن آخری 10 اوورز میں صرف 80 رنز ہی جوڑ سکا۔ اس طرح ٹیم کا اسکور 191 رنز تک محدود رہ گیا۔
 
سیریز جیتنے کے باوجود ٹیم کے لیے سبق
 
نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز جیتنا بھارتی ٹیم کے لیے کامیابی ضرور ہے، لیکن آخری دو میچوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ٹیم کو ٹاپ آرڈر کے ساتھ مڈل آرڈر اور بولنگ میں بھی بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ آنے والے مقابلوں میں ان کمزوریوں کو دور کرنا بھارتی ٹیم کے لیے اہم ہوگا۔