Wednesday, September 23, 2026 | 09 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • ایرانی صدر اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچے امریکی شہر نیو یارک، ایرانی وفد پر امریکی پابندیاں

ایرانی صدر اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچے امریکی شہر نیو یارک، ایرانی وفد پر امریکی پابندیاں

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: 22 Sept 2026

ایرانی صدر اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچے امریکی شہر نیو یارک، ایرانی وفد پر امریکی پابندیاں
مسعود پزشکیان اقوام متحدہ اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچے امریکی شہر نیویارک
امریکی حکومت نے پیزشکیان کی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد کی ہیں
 ایرانی وفد کو  ہوٹل اور اقوام متحدہ کے دفتر کے  علاوہ کہیں جانے کی اجازت نہیں 
 
ایرانی صدر مسعود پزشکیان امریکہ کے ساتھ شدید کشیدگی کے درمیان نیویارک پہنچ گئے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیےامریکہ  پہنچنے۔ یو این جی اے ، کے میزبان ملک امریکہ نےان  پر سخت سفری پابندیاں عائد کر دیں۔ایرانی صدر  اور ان کے وفد کو صرف مین ہٹن کے ملینیم ہلٹن ہوٹل سے، جہاں وہ ٹھہرے ہوئے ہیں ، اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر تک جانے کی اجازت   ہے۔
 
ذرائع  کے مطابق پزشکیان کی ٹیم کو خصوصی اجازت کے بغیر نیویارک کے دوسرے حصوں میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ ایرانی سفارت کاروں پر اس طرح کی پابندیاں 2024 سے لاگو ہیں اور اس سے قبل ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں سخت کی گئی تھیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تقریباً سات ماہ سے جاری کشیدگی کے باوجود امریکہ 1947 کے اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت رکن ممالک کے نمائندوں کو اجازت دینے کا پابند ہے۔
 
 مسعود پزشکیان اس ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے والے ہیں۔ امکان ہے کہ وہ دلیل دیں گے کہ ان کے ملک پر حملہ کیا گیا تھا اور  تہران کے اقدامات صرف اپنے دفاع میں تھے۔ مبینہ طور پر وہ سفر کے ایک حصے کے طور پر امریکی اور یورپی تھنک ٹینک کے تجزیہ کاروں سے ملنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
 
دوسری جانب، اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی عندیہ دیا ہے کہ وہ پیزشکیان سے ملاقات کے لیے تیار ہیں، تاہم بات چیت کا کوئی سرکاری منصوبہ نہیں بنایا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بامعنی مذاکرات نیویارک سے باہر ہی ہوں گے۔ یہ دورہ ایران کے لیے اپنے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز پر کشیدگی کے درمیان دنیا کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کرنے کا ایک نادر موقع ہے۔