ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر الزام لگایا ہے کہ وہ خود کو قید سے بچانے کے لیے امریکہ کو ایران کے ساتھ ایک اور جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش کررہا ہے۔ عراقچی کے مطابق، نیتن یاہو جنگ کا ماحول بنا رہے ہیں اور انہیں اس بات کی پرواہ نہیں کہ اس کے نتائج اسرائیل اور امریکہ کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں نیتن یاہو کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اسرائیلی وزیر اعظم اپنے سیاسی اور ذاتی مفادات کے لیے خطے میں کشیدگی بڑھا رہا ہے۔ اور امریکہ کو ایران کے خلاف ایک اور فوجی کارروائی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔ عراقچی نے اپنے بیان میں اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ ایسی کسی کارروائی کے نتائج صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ اس سے امریکہ اور اسرائیل کو بھی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ تاہم، یہ الزامات ایرانی وزیر خارجہ کی جانب سے لگائے گئے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں ماضی کی فوجی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے بھی ایران کے خلاف کارروائی کرکے معاملے کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی تھی، لیکن اس کے باوجود ایران پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر سامنے آیا۔ عراقچی کے مطابق، ایران کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکے۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران کسی نئی فوجی کارروائی کو اپنے خلاف دباؤ بڑھانے کی کوشش کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ عراقچی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور امریکہ کے ممکنہ کردار پر بحث جاری ہے۔ ایرانی حکومت بارہا خبردار کر چکی ہے کہ اس کے خلاف کسی بھی نئی فوجی کارروائی کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
دوسری جانب، نیتن یاہو کے بارے میں عراقچی کے الزامات کی آزادانہ تصدیق کے لیے مزید شواہد درکار ہیں۔ فی الحال ایرانی وزیر خارجہ کے بیان میں اسرائیلی وزیر اعظم کے ارادوں اور ممکنہ امریکی کردار کے بارے میں ان کا مؤقف سامنے آیا ہے۔ اس بیان سے ایک بار پھر ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں موجود تناؤ نمایاں ہوا ہے۔ اگر خطے میں فوجی کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات وسیع تر مشرق وسطیٰ کی سلامتی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔







