جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس آج سے شروع ہو رہا ہے۔ سات نشستوں پر مشتمل اس اجلاس کے دوران مختلف اہم مسائل پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بحث ہونے کی توقع ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) سمیت اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو کئی معاملات پر گھیرنے کی تیاری کی ہے۔ اپوزیشن جماعتیں خاص طور پر ملازمتوں اور انتخابی وعدوں کی تکمیل کے معاملے کو اسمبلی میں اٹھا سکتی ہیں۔ بی جے پی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ان جماعتوں کی جانب سے حکومت سے مختلف وعدوں اور اعلانات پر جواب طلب کیے جانے کا امکان ہے۔
دوسری جانب حکمراں جماعت نیشنل کانفرنس نے بھی اسمبلی اجلاس کے لیے اپنی حکمت عملی تیار کر لی ہے۔ نیشنل کانفرنس کے اراکینِ اسمبلی اور حکومت کی حمایت کرنے والے آزاد اراکین نے اتوار کو ایک اجلاس منعقد کیا، جس میں اسمبلی کے دوران حکومتی بنچوں کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس اجلاس کی صدارت نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے کی۔ عمر عبداللہ کی قیادت میں ہونے والے اس اجلاس میں حکمراں جماعت کے اراکین نے اسمبلی کے مختلف معاملات اور اپوزیشن کے ممکنہ حملوں کا سامنا کرنے کی حکمت عملی پر گفتگو کی۔
جموں و کشمیر اسمبلی میں بی جے پی اہم اپوزیشن جماعت ہے۔ بی جے پی نے نیشنل کانفرنس کی حکومت پر مختلف محاذوں پر ناکامی کا الزام عائد کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ حکومت نے عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے۔ اسمبلی اجلاس کے دوران ملازمتوں، حکومتی وعدوں اور عوامی مسائل کے علاوہ دیگر ریاستی معاملات بھی زیر بحث آنے کا امکان ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے حکومت سے جواب طلب کیے جانے اور مختلف مسائل پر احتجاج کیے جانے کی توقع ہے۔
سات نشستوں پر مشتمل اس اجلاس کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی اختلافات بھی نمایاں ہو سکتے ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں جہاں حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھانے کی تیاری کر رہی ہیں، وہیں نیشنل کانفرنس حکومت اپنے فیصلوں اور پالیسیوں کا دفاع کرے گی۔ ایسے میں جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا یہ اجلاس ہنگامہ خیز رہنے کا امکان ہے اور کئی اہم مسائل پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان زبردست بحث متوقع ہے۔







