نئی دہلی میں منعقدہ ’میونخ لیڈرز میٹنگ‘ کے دوران وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھارت اور ایران کی جوہری حیثیت کے درمیان فرق واضح کیا۔ انہوں نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے اس معاہدے پر دستخط نہیں کیے، جبکہ ایران NPT کا فریق ہے اور اس کے تحت بین الاقوامی ذمہ داریوں کا پابند ہے۔ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے ممکنہ معاشی اثرات پر بات کرتے ہوئے جے شنکر نے کہا کہ اس تنازعے کا سب سے بڑا فوری اثر توانائی اور تجارت کے شعبوں پر پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث توانائی کی عالمی منڈیاں غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، جس کا اثر عام لوگوں کی زندگی، روزگار اور گھریلو بجٹ پر پڑ سکتا ہے۔
جے شنکر نے کہا کہ ایران اور بھارت کی جوہری حیثیت کو ایک جیسا نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان کے مطابق بھارت ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے NPT پر دستخط نہیں کیے، جبکہ ایران اس معاہدے کا رکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے لیے موجودہ صورتحال میں فوری تشویش توانائی اور تجارت میں ممکنہ خلل ہے۔ جے شنکر کے مطابق مغربی ایشیا میں پیدا ہونے والی صورتحال کا براہِ راست اثر توانائی کی منڈیوں پر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کی منڈیاں اس وقت انتہائی غیر مستحکم ہیں اور اس کا اثر لوگوں کے گھریلو اخراجات، روزگار اور معیشت پر پڑ سکتا ہے۔ بھارت اپنی خام تیل کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے خطے میں تیل کی سپلائی یا اہم سمندری راستوں میں خلل بھارت کے لیے خاص تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔
جے شنکر نے بتایا کہ بھارت اقوام متحدہ کے ان چند رکن ممالک میں شامل ہے جنہوں نے NPT پر دستخط نہیں کیے۔ ان میں پاکستان، اسرائیل اور جنوبی سوڈان بھی شامل ہیں۔ ان ممالک نے NPT کے فریم ورک سے باہر رہتے ہوئے اپنی جوہری صلاحیت برقرار رکھی ہے۔ بھارت کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے ’پہلے استعمال نہ کرنے‘ یعنی No First Use کی پالیسی بھی اختیار کی گئی ہے۔
دوسری جانب ایران نے 1968 میں NPT پر دستخط کیے اور 1970 میں اسے ایک غیر جوہری ہتھیار رکھنے والے ملک (NNWS) کے طور پر منظور کیا۔ ایران کی جوہری تنصیبات بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے حفاظتی انتظامات کے تحت رہی ہیں۔جے شنکر کے بیان کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ بھارت اور ایران کی جوہری حیثیت اور بین الاقوامی معاہدوں کے تحت ان کی ذمہ داریاں مختلف ہیں، جبکہ موجودہ مغربی ایشیائی بحران میں بھارت کی فوری تشویش توانائی اور تجارت پر پڑنے والے ممکنہ اثرات ہیں۔







