Thursday, September 17, 2026 | 03 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • جموں وکشمیر
  • »
  • جموں میں روہنگیا اور بنگلہ دیشی پناہ گزینوں کے خلاف کارروائی، مکان مالکان کو نوٹس

جموں میں روہنگیا اور بنگلہ دیشی پناہ گزینوں کے خلاف کارروائی، مکان مالکان کو نوٹس

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 16 Sept 2026

جموں میں روہنگیا اور بنگلہ دیشی پناہ گزینوں کے خلاف کارروائی، مکان مالکان کو نوٹس
جموں میں بنگلہ دیش اور میانمار سے آنے والے پناہ گزینوں کے معاملے پر انتظامیہ نے کارروائی تیز کر دی ہے۔ جموں و کشمیر انتظامیہ کی جانب سے ان علاقوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے جہاں یہ افراد گزشتہ کئی برسوں سے رہائش پذیر ہیں۔ انتظامیہ نے ان بستیوں اور وہاں رہنے والے افراد کے حوالے سے قانونی کارروائی کا عمل شروع کیا ہے۔ میڈیا کے مطابق انتظامیہ نے پہلے ان مکان مالکان اور زمینداروں کی نشاندہی کی، جنہوں نے اپنی جائیدادیں یا زمینیں ان پناہ گزینوں کو کرائے پر دے رکھی تھیں۔ اس کے بعد متعلقہ مالکان کو نوٹس جاری کیے گئے اور انہیں ہدایت دی گئی کہ وہ مقررہ مدت کے اندر اپنی جائیدادیں خالی کروائیں۔
 
انتظامیہ کی جانب سے نوٹس ملنے کے بعد کئی مکان مالکان نے ان روہنگیا خاندانوں سے اپنی جائیدادیں خالی کرنے کو کہا ہے جو کرایہ دار کی حیثیت سے مکانات، دکانوں یا دیگر مقامات پر رہ رہے تھے۔ جائیداد خالی کرنے کے لیے دی گئی ہدایات کے بعد ان بستیوں میں رہنے والے خاندانوں کے درمیان تشویش پیدا ہوئی ہے۔ بعض رہائشیوں کے سامنے یہ سوال ہے کہ اگر انہیں موجودہ مقامات سے ہٹا دیا گیا تو وہ کہاں جائیں گے اور ان کے مستقبل کا کیا ہوگا۔ روہنگیا پناہ گزینوں کا مسئلہ گزشتہ کئی برسوں سے بھارت میں سیاسی اور انتظامی بحث کا موضوع رہا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں ان کی موجودگی کے حوالے سے کارروائیاں بھی ہوتی رہی ہیں۔ حکومت کی جانب سے ایسے افراد کی شناخت اور ان کے قیام سے متعلق قانونی حیثیت کا جائزہ لینے کی بات کی جاتی رہی ہے، جبکہ انسانی حقوق سے وابستہ حلقے ان کارروائیوں کے انسانی اثرات پر تشویش ظاہر کرتے رہے ہیں۔
 
روہنگیا پناہ گزینوں کی صورتحال صرف بھارت تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ ایک بین الاقوامی انسانی بحران بھی رہا ہے۔ میانمار سے بڑی تعداد میں روہنگیا افراد نقل مکانی کرکے بنگلہ دیش سمیت مختلف ممالک میں پناہ لے چکے ہیں۔ اقوام متحدہ نے بھی روہنگیا پناہ گزینوں کی صورتحال پر متعدد مرتبہ تشویش کا اظہار کیا ہے۔ جون 2026 میں اقوام متحدہ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ بنگلہ دیش میں موجود تقریباً 12 لاکھ روہنگیا پناہ گزینوں کو بے یارومددگار نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔ جموں میں جاری کارروائی کے درمیان اب توجہ اس بات پر ہے کہ انتظامیہ ان بستیوں میں رہنے والے افراد کے خلاف آگے کیا قدم اٹھاتی ہے اور جائیداد خالی کرانے کے بعد ان خاندانوں کے لیے کیا صورت حال پیدا ہوتی ہے۔ معاملے میں انتظامیہ کی جانب سے مزید کارروائی متوقع ہے۔