مراٹھا ریزرویشن کے لیے احتجاج کرنے والے کارکن منوج جارنگے نے آج صبح اپنی 20 روزہ بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ جارنگے نے مہاراشٹرا حکومت کو اپنے مطالبات پرغور کرنے اور انہیں پورا کرنے کے لیے 90 دن کا وقت دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر مقررہ مدت کے اندر ان کے مطالبات پرعمل نہیں ہوا تو وہ ایک بار پھر ممبئی میں احتجاج شروع کریں گے۔ منوج جارنگے نے اپنی بھوک ہڑتال 29 اگست کو جالنہ سے شروع کی تھی۔ ان کا بنیادی مطالبہ مراٹھا برادری کو دیگر پسماندہ طبقات یعنی او بی سی کوٹے کے تحت ریزرویشن فراہم کرنا ہے۔ اس کے علاوہ وہ مراٹھا برادری سے متعلق پرانے ریکارڈ اور دستاویزات کی بنیاد پر کنبی سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔
جارنگے کے مطالبات میں حیدرآباد، ستارا اور اوند گزٹ کو تسلیم کرنے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان پرانے ریکارڈز کو تسلیم کرتے ہوئے ان مراٹھا خاندانوں کو کنبی سرٹیفکیٹ جاری کیے جائیں جو مقررہ شرائط پوری کرتے ہیں۔ مراٹھا ریزرویشن کا معاملہ گزشتہ کئی برسوں سے مہاراشٹرا کی سیاست اور سماجی مباحث میں اہم موضوع رہا ہے۔ جارنگے اس معاملے پر کئی مرتبہ احتجاج کر چکے ہیں اور حکومت سے مطالبات تسلیم کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔
مطالبات پر حکومت کی جانب سے خاطر خواہ پیش رفت نہ ہونے پر منوج جارنگے نے 15 ستمبر کو ممبئی کی طرف مارچ شروع کیا تھا۔ تاہم اگلے ہی دن ان کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی، جس کے بعد انہیں مارچ روکنا پڑا۔ ڈاکٹروں کے مطابق طویل عرصے تک بھوک ہڑتال کے باعث ان کے بلڈ پریشر اور بلڈ شوگر میں نمایاں کمی آئی تھی۔ اس کے علاوہ وہ پانی کی کمی کا بھی شکار ہوگئے تھے۔ طبیعت خراب ہونے کے بعد ان کی صحت پر خاص توجہ دی گئی۔
بھوک ہڑتال ختم کرتے ہوئے جارنگے نے حکومت کو اپنے مطالبات پر کارروائی کے لیے 90 دن کا وقت دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مہلت مطالبات پر پیش رفت کے لیے دی جا رہی ہے اور اگر اس دوران کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا تو وہ دوبارہ احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے۔ جارنگے کے اعلان کے بعد اب توجہ مہاراشٹرا حکومت کے اگلے قدم پر ہے۔ حکومت کی جانب سے مراٹھا ریزرویشن، پرانے گزٹ ریکارڈ اور کنبی سرٹیفکیٹ کے مطالبات پر کیا فیصلہ کیا جاتا ہے، یہ آنے والے دنوں میں واضح ہوگا۔ فی الحال 20 روزہ بھوک ہڑتال ختم ہونے کے بعد منوج جارنگے نے اپنے حامیوں سے بھی احتجاج ختم کرنے اور حکومت کو دی گئی 90 دن کی مہلت کے دوران پیش رفت کا انتظار کرنے کی اپیل کی ہے۔






