آیوش ملک پہلے ہی یہ بیان دے چکے تھے کہ انہوں نے اپنی مرضی اور رضامندی سے اسلام قبول کیا ہے۔ اس کے باوجود چاندنی قریشی اور ان کے اہل خانہ کے خلاف مبینہ طور پر زبردستی مذہب تبدیل کرانے کے الزام میں ایف آئی آر درج کی گئی، گرفتاریاں ہوئیں اور انہیں جیل بھیجنے کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔ اب آیوش ملک نے ہائی کورٹ کے سامنے بھی اپنے سابقہ موقف کو دہرایا ہے۔ انہوں نے عدالت میں تصدیق کی کہ انہوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا تھا۔ ان کے اس بیان کے بعد اس پورے معاملے میں کارروائی کی بنیاد اور اس سے پیدا ہونے والے کئی سوالات ایک بار پھر زیر بحث آگئے ہیں۔
سب سے اہم سوال یہی ہے کہ اگر متعلقہ شخص خود مسلسل یہ کہتا رہا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کیا، تو پھر زبردستی مذہب تبدیل کرانے کا الزام کس بنیاد پر لگایا گیا؟ کیا اس الزام کی حمایت میں کوئی ایسا ثبوت موجود تھا جو آیوش کے اپنے بیان سے مختلف صورتحال کی نشاندہی کرتا ہو؟ یہ معاملہ صرف مذہب کی تبدیلی تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس کے نتیجے میں کسی خاندان کو پیش آنے والی قانونی مشکلات بھی اہم سوال بن جاتی ہیں۔ ایف آئی آر، گرفتاری اور قید جیسی کارروائیاں کسی بھی خاندان کے لیے سنگین صورتحال پیدا کرسکتی ہیں۔ ایسے میں یہ جاننا ضروری ہے کہ کارروائی کن شواہد اور کن قانونی بنیادوں پر کی گئی۔
ہائی کورٹ کے سامنے آیوش ملک کے بیان کے بعد اب اس معاملے کی تحقیقات اور سابقہ کارروائیوں پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اگر عدالت کے سامنے ان کا بیان یہی ہے کہ انہوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا تھا، تو متعلقہ حکام کے لیے یہ واضح کرنا اہم ہوگا کہ زبردستی مذہب تبدیلی کا الزام کس بنیاد پر قائم کیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر کسی غلط فہمی، غلط اطلاع یا غیر ثابت شدہ الزام کی بنیاد پر خاندان کے افراد کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا، تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟ اب توجہ اس بات پر ہے کہ عدالت اس پورے معاملے میں دستیاب شواہد، بیانات اور قانونی کارروائی کا کس طرح جائزہ لیتی ہے اور آیا آئندہ کارروائی میں ان نکات کو بھی مدنظر رکھا جائے گا یا نہیں۔






