Thursday, September 17, 2026 | 03 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • یو سی سی کے خلاف آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی ملک گیر مہم، جنتر منتر پر دھرنے کی اجازت نہیں

یو سی سی کے خلاف آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی ملک گیر مہم، جنتر منتر پر دھرنے کی اجازت نہیں

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 17 Sept 2026

یو سی سی  کے خلاف  آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی ملک گیر مہم، جنتر منتر پر دھرنے کی اجازت نہیں
یونیفارم سول کوڈ (UCC) کے خلاف آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (AIMPLB) کی جانب سے اعلان کردہ ملک گیر مہم کا آغاز دارالحکومت دہلی میں نئی حکمت عملی کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ بورڈ نے جنتر منتر پر احتجاجی دھرنے کی اجازت مانگی تھی، تاہم دہلی پولیس نے اجازت دینے سے انکار کردیا۔ اس کے بعد بورڈ نے احتجاج کے بجائے پریس کلب آف انڈیا سے اپنی مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں دہلی میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر پولیس کی جانب سے سکیورٹی اور امن و امان کے معاملے میں احتیاط برتی جا رہی ہے۔ جنتر منتر پر اجازت نہ ملنے کے بعد AIMPLB کے سینئر عہدیداران اور مسلم تنظیموں کے نمائندے پریس کلب آف انڈیا میں پریس کانفرنس کے ذریعے اپنی ملک گیر مہم کے اگلے مرحلے کا اعلان کریں گے۔
 
بورڈ کی جانب سے اس مہم کو ’آئین بچاؤ، شریعت بچاؤ‘ کا نام دیا گیا ہے۔ مسلم تنظیموں کا کہنا ہے کہ یونیفارم سول کوڈ اور وقف سے متعلق قانون میں کی گئی تبدیلیاں ان کے مذہبی حقوق اور پرسنل لا سے متعلق معاملات پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ بورڈ کی جانب سے ان معاملات پر حکومت کے موقف کی مخالفت کی جا رہی ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی جانب سے 2029 تک این ڈی اے زیر اقتدار ریاستوں میں یونیفارم سول کوڈ نافذ کرنے کے روڈ میپ کے حوالے سے بھی مسلم پرسنل لا بورڈ نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ مذہبی آزادی اور آئینی حقوق کے تحفظ کے معاملے میں حکومت کو ان کے موقف پر غور کرنا چاہیے۔
 
وقف سے متعلق قانون میں تبدیلیوں کے علاوہ مسلم تنظیمیں تعلیمی اداروں میں ’وندے ماترم‘ کے تمام چھ بند پڑھنے کو لازمی قرار دینے کی مخالفت بھی کر رہی ہیں۔ ان تنظیموں کی جانب سے ان مسائل پر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں سے رابطہ کرنے اور عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔ جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت نہ ملنے کے باوجود AIMPLB نے اپنی مہم ختم کرنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔ بورڈ کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں عوامی اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ گورنروں اور ضلعی انتظامیہ کے ذریعے صدرِ جمہوریہ کو یادداشتیں پیش کرنے کا منصوبہ بھی ہے۔
 
دوسری جانب قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد متعلقہ قوانین اور حکومتی فیصلوں کو عدالت میں چیلنج کرنے کی تیاری بھی کی جا رہی ہے۔ ادھر وشو ہندو پریشد کا دعویٰ ہے کہ مسلم برادری کی اکثریت UCC کی حمایت کرتی ہے اور اس سے خواتین کے لیے مساوات کو یقینی بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم اس معاملے پر مختلف مسلم تنظیموں اور دیگر حلقوں کے موقف میں واضح اختلاف پایا جاتا ہے۔