Wednesday, September 23, 2026 | 09 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • جموں وکشمیر
  • »
  • جموں و کشمیر اسمبلی اجلاس کا دوسرا دن، حکومت اور اپوزیشن میں پھر ٹکراؤ کا امکان

جموں و کشمیر اسمبلی اجلاس کا دوسرا دن، حکومت اور اپوزیشن میں پھر ٹکراؤ کا امکان

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 22 Sept 2026

جموں و کشمیر اسمبلی اجلاس کا دوسرا دن، حکومت اور اپوزیشن میں پھر ٹکراؤ کا امکان
جموں و کشمیر اسمبلی کے جاری اجلاس کا آج دوسرا دن ہے۔ اجلاس کے پہلے ہی دن حکمراں اتحاد اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان مختلف مسائل پر شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے کو ملی۔ آج بھی کئی اہم عوامی مسائل کو لے کر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایک بار پھر تکرار اور احتجاج کے امکانات ہیں۔ پہلے دن اسمبلی کی کارروائی شروع ہوتے ہی بی جے پی ارکان نے مختلف مطالبات کو لے کر احتجاج کیا۔ بی جے پی ارکان نے نیشنل ہیلتھ مشن (NHM) ملازمین کے مسائل، بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں اور ڈیلی ویجرز کی مستقلی سمیت کئی معاملات پر آواز اٹھائی۔ احتجاج کے دوران ارکان نے پلے کارڈز لہرائے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔
 
بی جے پی ارکان کا کہنا تھا کہ حکومت کو ملازمین اور عام لوگوں سے جڑے ان مسائل پر فوری توجہ دینی چاہیے۔ احتجاج کے باعث ایوان میں کچھ دیر تک شور شرابہ جاری رہا اور اسمبلی کی کارروائی متاثر ہوئی۔ دوسری جانب کانگریس نے پیپر لیک کے معاملے کو اسمبلی میں اٹھایا۔ پارٹی ارکان نے امتحانات میں بے ضابطگیوں اور طلبہ سے متعلق مسائل پر حکومت سے جواب طلب کیا۔ وہیں نیشنل کانفرنس کی جانب سے جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ فوری طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ریاستی درجہ بحال کرنا جموں و کشمیر کے عوام کی ایک اہم سیاسی اور آئینی خواہش ہے۔
 
اسمبلی میں جاری احتجاج پر نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے بی جے پی پر غیر ضروری ہنگامہ اور ڈراما کرنے کا الزام لگایا اور عوام سے اپیل کی کہ وہ اپوزیشن کے اس طرزِ عمل کا نوٹس لیں۔ پہلے دن مسلسل نعرے بازی اور ارکان کے درمیان تکرار کے بعد اسپیکر کو بھی مداخلت کرنا پڑی۔ اسپیکر نے ہدایت دی کہ ایوان میں کیے گئے اس احتجاج، نعرے بازی اور ہنگامہ آرائی کو اسمبلی کی باضابطہ کارروائی کا حصہ نہ بنایا جائے۔
 
اب اجلاس کے دوسرے دن بھی مختلف مسائل پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بحث تیز ہونے کے امکانات ہیں۔ بی جے پی ملازمین، بجلی کے نرخوں اور ڈیلی ویجرز کے مسائل اٹھانے کی تیاری میں ہے، جبکہ دیگر اپوزیشن جماعتیں پیپر لیک، ریاستی درجہ اور عوام سے متعلق دوسرے معاملات پر حکومت کو گھیر سکتی ہیں۔ ایسے میں آج کی اسمبلی کارروائی خاصی اہم سمجھی جا رہی ہے اور یہ دیکھنا ہوگا کہ حکومت اور اپوزیشن ان معاملات پر کس انداز میں ایک دوسرے کا سامنا کرتے ہیں۔