جموں وکشمیر وقف بورڈ کے زیرِ انتظام مساجد میں جمعہ کے خطبات کے لیے یکساں موضوعات مقرر کرنے کی مبینہ تجویز پر سیاسی اور مذہبی حلقوں میں نے شدید مخالفت کی ہے۔ جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمرعبداللہ اور پی ڈی پی صدر وسابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سمیت کئی رہنماؤں نے اس اقدام کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اسے مسلمانوں کے مذہبی امور میں مداخلت قرار دیا ہے۔
تجویزناقابل قبول: وزیراعلیٰ
وزیرِ اعلیٰ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھتے ہوئے اس تجویز کو ناقابلِ قبول قرار دیا ،اور اسے کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے وقف بورڈ کی چیئرپرسن سے اسے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت، بی جے پی کا ایجنڈہ
جبکہ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے بھی مقامی علما کی خودمختاری پر زور دیتے ہوئے اس فیصلے کو مسترد کر دیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا ایجنڈا مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت کے راستے تلاش کرنا ہے۔ ان کے مطابق: "یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کی طرح یہ اقدام بھی مذہبی معاملات میں یکسانیت لانے کی کوشش ہے۔" محبوبہ مفتی کے مطابق: "یہ مساجد تمام مسلمانوں کے پیسوں سے تعمیر کی گئی ہیں اور ہمارے ائمہ جانتے ہیں کہ انہیں کیا کہنا ہے اور کب کہنا ہے۔"
جموں و کشمیر بی جے پی کے لیے ایک تجربہ گاہ
پی ڈی پی صدر نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت میں اقلیتی امور کی وزارت کے باوجود مسلمانوں اور ائمہ مساجد کے معاملات کو سمجھنے کا مسئلہ برقرار ہے۔ سابق وزیراعلیٰ نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ "جموں و کشمیر بی جے پی کے لیے ایک تجربہ گاہ بن چکا ہے۔" انہوں نے کہا کہ "نئی دہلی میں بھی ایسے ہی اقدامات دیکھنے کو ملے ہیں، جیسے پہلے جموں و کشمیر میں دیکھے جاتے رہے ہیں۔
متحدہ مجلس علماء جموں و کشمیر کا سخت رد عمل
میرواعظ کشمیر مولوی عمر فاروق کی سربراہی میں متحدہ مجلس علماء جموں و کشمیر نے اس اقدام پر سخت اعتراضات اٹھاتے ہوئے اسے مذہبی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے۔ متحدہ مجلسِ علماء جموں و کشمیر کے سرپرست اور میرواعظ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق نے وقف بورڈ کی طرف سے جمعہ کے خطبات کے لیے یکساں خطبہ جاری کرنے کی اطلاعات کا سخت نوٹس لیا ہے۔ ایک ویڈیو پیغام میں میرواعظ کشمیر نے واضح کیا کہ وقف بورڈ کی طرف سے یہ تجویز دینا کہ وہ منبر سے ہونے والی تبلیغ کا تعین یا ضابطہ طے کرے، انتہائی افسوس ناک ہے اور جموں و کشمیر کے مسلمان اسے ہرگز قبول نہیں کریں گے۔
عقائد اور مذہبی معمولات میں مداخلت نہیں
متحدہ مجلس علماء جموں و کشمیر کے بیان میں کہا گیا کہ "منبر ایک امانت ہے اور مذہبی رہنمائی علماء، ائمہ اور مسلمہ دینی اداروں کا دائرۂ اختیار ہے، جو اسلامی تعلیمات، علمی روایت اور مختلف مکاتب فکر کے اصولوں پر مبنی ہے"۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ "حکومت یا ریاست خود کو یہ اختیار نہیں دے سکتی کہ وہ مذہبی خطابات کے موضوعات یا الفاظ طے کرے یا عقائد اور مذہبی معمولات میں مداخلت کرے"۔
جموں و کشمیر وقف بورڈ کی چیئرپرسن کی وضاحت
جموں و کشمیر وقف بورڈ کی چیئرپرسن ڈاکٹر درخشاں اندرابی نے واضح کیا ہے کہ بورڈ کی زیرِ انتظام مساجد میں جمعہ کے خطبات کے لیے کوئی یکساں ضابطہ یا حکم نامہ جاری نہیں کیا گیا۔ سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مذہبی اسکالرز اور خطیب اپنے خطبے کے موضوعات کے انتخاب میں مکمل طور پر آزاد ہیں، بورڈ اس معاملے میں کوئی قدغن نہیں لگا سکتا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو درپیش اہم سماجی مسائل جیسے منشیات کی لت، گھریلو مسائل، خودکشی اور ذہنی دباؤ پر توجہ مرکوز کرنا تھا۔ اُنہوں نے مذہبی معاملات پر سیاست کرنے سے، سیاست دانوں کو گریز کرنے کا مشورہ دیا ۔
مذہبی ادارے، سماجی ذمہ داریوں کے چیلنجز سے نمٹیں
وقف بورڈ کی چیئرپرسن نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد مذہبی علما کو ان مسائل پر بات کرنے کی ترغیب دینا ہے جو معاشرے، خاص طور پر نوجوان نسل کو متاثر کر رہے ہیں۔ اندرابی نے کہا کہ مذہبی ادارے بھی اپنے پلیٹ فارم کے ذریعے سماجی ذمہ داریوں اور خاندانوں و برادریوں کو درپیش مسائل پر گفتگو کرکے ان چیلنجز سے نمٹنے کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مجوزہ اقدام کا مقصد مذہبی گفتگو پر پابندی لگانا یا تمام مساجد کے لیے خطبے کا ایک ہی موضوع مقرر کرنا نہیں ہے۔اس اقدام کے مجوزہ ڈھانچے کی وضاحت کرتے ہوئے اندرابی نے کہا کہ ایک بنیادی کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جس میں مذہبی علما شامل ہوں گے، جبکہ وہ خود اس کمیٹی کی رکن نہیں ہوں گی۔
بی جےپی سے وابستگی پرکیا فخر کا اظہار
جموں وکشمیر وقف بورڈ کی صدرنشین درخشاں اندار بی نے ایک سوال پر کہاکہ ،،اگر میں بی جے پی کی رہنما ہوں تو مجھے اس پر فخر ہے۔ آج مجھے اس بات پر بہت فخر ہے کہ میں بی جے پی سے تعلق رکھتی ہوں۔‘‘انہوں نے سیاسی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ عوام کو نچلی سطح پر درپیش مسائل پر توجہ دیں اور سماجی مشکلات کو حل کرنے کے مقصد سے شروع کیے جانے والے اقدامات کی مخالفت کرنے کے بجائے ان مسائل کے حل پر توجہ مرکوز کریں۔






